استاد: قوموں کا معمار اور مستقبل کا محافظ ،تحریر: ارشد اعوان مرجان
نقطہ نظر
ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں ان عظیم شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو علم کی روشنی سے جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے اور نئی نسلوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ استاد صرف کتاب کا سبق پڑھانے والا شخص نہیں بلکہ وہ قوم کے مستقبل کا معمار، کردار کا تربیت کار اور معاشرے کی فکری بنیاد مضبوط کرنے والا رہنما ہے۔
انسان کی زندگی میں استاد کا کردار اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب وہ پہلی مرتبہ الفاظ، اعداد اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک استاد بچے کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچانتا، اس کی رہنمائی کرتا اور اسے آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ والدین بچے کی پرورش کرتے ہیں، مگر استاد اس کی شخصیت کو علم، شعور اور تربیت کے ذریعے ایک سمت عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں بڑے سائنس دانوں، مفکرین، ادیبوں، سیاست دانوں اور رہنماؤں کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کی محنت ضرور نظر آتی ہے۔
آج ہم جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی انتہائی آسان بنا دی ہے، لیکن معلومات اور علم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ معلومات انسان کو بہت کچھ بتا سکتی ہیں، مگر صحیح اور غلط میں فرق کرنا، سوال اٹھانا، دلیل سے سوچنا، دوسروں کا احترام کرنا اور مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنا استاد ہی سکھاتا ہے۔ اس لیے ٹیکنالوجی ترقی کا ذریعہ ضرور ہے، مگر استاد کی اہمیت کو ختم نہیں کر سکتی۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں استاد کی عظمت کو زبان سے تو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر اساتذہ کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی، بعض علاقوں میں اساتذہ کی قلت، غیر تدریسی ذمہ داریوں کا بوجھ اور محدود وسائل تعلیم کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ دوسری طرف نجی اداروں میں بعض اساتذہ کو کم تنخواہوں اور غیر یقینی ملازمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم واقعی تعلیم کو ملک کی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہیں تو ہمیں استاد کے مسائل کو محض ایک محکمانہ معاملہ نہیں بلکہ قومی مسئلہ سمجھنا ہوگا۔
ایک اچھا استاد صرف نصاب مکمل نہیں کرتا بلکہ اپنے شاگرد کے کردار کی تعمیر بھی کرتا ہے۔ وہ اسے سچ بولنے، محنت کرنے، قانون کا احترام کرنے، کمزور کا ساتھ دینے، خواتین اور بزرگوں کی عزت کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا درس دیتا ہے۔ آج جب نوجوان نسل مختلف قسم کے منفی رجحانات، منشیات، تشدد، نفرت اور سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال جیسے مسائل سے دوچار ہے، استاد کی تربیتی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ کو بہتر تربیت، مناسب تنخواہیں، محفوظ اور باوقار ماحول اور جدید تدریسی سہولیات فراہم کرے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ استاد کو اپنے بچے کا مخالف نہیں بلکہ خیرخواہ سمجھیں۔ اسی طرح طلبہ پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کی عزت کریں، کیونکہ استاد کی عزت دراصل علم کی عزت ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے ملک کا مستقبل کس طرح کا چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں ایک باشعور، مہذب، باکردار اور ترقی یافتہ پاکستان چاہیے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام اور اپنے اساتذہ کو مضبوط بنانا ہوگا۔
عالمی یومِ اساتذہ صرف استاد کو مبارکباد دینے کا دن نہیں، بلکہ اپنے تعلیمی نظام کا احتساب کرنے کا دن بھی ہے۔
آئیے اس دن عہد کریں کہ ہم استاد کی عزت کو صرف تقریروں اور سوشل میڈیا پوسٹوں تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ استاد کو اس کا جائز مقام، احترام اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی کردار ادا کریں گے۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ قوموں کی تقدیر ایوانوں میں نہیں، درسگاہوں میں لکھی جاتی ہے، اور درسگاہوں کا سب سے بڑا معمار استاد ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں




