Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وہ اخلاق کہ جن کے سامنے زمانہ جھک گیا,تحریر:طاہر محمود

نقطہ نظر
tahir mahmood
مصنف:

وہ اخلاق کہ جن کے سامنے زمانہ جھک گیا


محمد ﷺ، رحمت کا وہ چراغ جو کبھی نہیں بجھ سکتا


تحریر: طاہر محمود


کچھ شخصیات تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں، کچھ تاریخ رقم کرتی ہیں، مگر ایک ہستی ایسی ہے جس کی ذاتِ اقدس خود تاریخِ انسانیت کا سب سے روشن باب بن گئی۔ وہ ہستی جس کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے، جس کے نام سے محبت کی خوشبو آتی ہے، جس کی سیرت میں انسانیت کا وقار اور جس کے کردار میں رحمتِ الٰہی کی جھلک دکھائی دیتی ہے—وہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔


آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ انسانیت کے لیے ایک درس ہے، مگر آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ وہ عظیم خزانہ ہیں جنہوں نے پتھر دلوں کو موم کیا، دشمنوں کو دوست بنایا اور ایک منتشر معاشرے کو محبت، اخوت، عدل اور رحمت کی لڑی میں پرو دیا۔


قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کی عظمتِ کردار کو ایک ایسی سند عطا فرمائی جس کی نظیر نہیں ملتی: "اور بے شک آپ ﷺ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔"


یہ صرف ایک آیت نہیں، بلکہ اخلاق کے اس آسمانی معیار کا اعلان ہے جس کی تکمیل محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ میں ہوئی۔


آپ ﷺ کے لبوں پر کبھی کسی کے لیے سختی نہیں، دل میں کسی کے لیے کینہ نہیں اور رویے میں کسی کے لیے تحقیر نہیں تھی۔ آپ ﷺ سلام میں پہل فرماتے، مسکراہٹ سے دل جیتتے، گفتگو میں نرمی اختیار کرتے اور کسی انسان کو اس کی کمزوری یا محتاجی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھتے۔


آپ ﷺ بچوں کے لیے محبت کا سایہ تھے، یتیموں کے لیے آسرا، مسکینوں کے لیے سہارا، خواتین کے لیے عزت و احترام کی علامت اور کمزوروں کے لیے رحمت کا دروازہ تھے۔ آپ ﷺ نے انسان کو یہ سبق دیا کہ کسی کی عظمت اس کے لباس، دولت، خاندان یا منصب میں نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ میں ہے۔


مگر اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کا سب سے حسین پہلو معافی ہے۔


طائف کی گلیاں آج بھی شاید اس منظر کی گواہ ہیں کہ جن ہاتھوں نے رحمتِ عالم ﷺ پر پتھر برسائے، ان کے لیے بھی آپ ﷺ کے دل میں انتقام نہیں بلکہ ہدایت کی خواہش تھی۔ جسمِ اطہر لہولہان تھا، مگر زبانِ مبارک پر بددعا نہیں تھی۔ یہ کیسا اخلاق تھا! یہ کیسی رحمت تھی! یہ کیسی انسانیت تھی کہ تکلیف دینے والے کے لیے بھی خیر چاہی گئی۔


پھر فتحِ مکہ کا وہ تاریخی دن آیا جب کل کے دشمن آج بے بس کھڑے تھے۔ اختیار مکمل تھا، اقتدار سامنے تھا اور انتقام کا ہر راستہ کھلا تھا، مگر محمد ﷺ نے دنیا کو بتا دیا کہ فاتح وہ نہیں جو دشمن کو شکست دے؛ فاتح وہ ہے جو طاقت کے باوجود معاف کر دے۔


یہی اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔


آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے عفو، نفرت کے بجائے محبت، تکبر کے بجائے عاجزی اور سختی کے بجائے رحمت کو اختیار فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے صرف شہر فتح نہیں کیے، دل فتح کیے۔


آپ ﷺ کی عاجزی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ آپ ﷺ بادشاہوں کی طرح تخت پر نہیں بیٹھے، بلکہ اپنے صحابہؓ کے درمیان ایک عام انسان کی طرح بیٹھتے۔ اپنے کام خود انجام دیتے، ضرورت مندوں کی خبر گیری فرماتے اور کسی انسان کو اپنے منصب کی وجہ سے اپنے سے کمتر نہ سمجھتے۔


آج ہم ترقی کے بلند دعوے کرتے ہیں، مگر ہمارے دل چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ ہم گفتگو تو بہت کرتے ہیں، مگر سننے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ معمولی اختلاف نفرت بن جاتا ہے، ایک تلخ جملہ برسوں کے تعلق کو زخمی کر دیتا ہے اور انا محبت سے بڑی ہو جاتی ہے۔


ایسے دور میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ محض کتابوں میں پڑھنے کا موضوع نہیں، اپنانے کا راستہ ہے۔


اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں سکون ہو تو ہمیں اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ رشتوں میں محبت باقی رہے تو ہمیں اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے سے نفرت کم ہو اور برداشت بڑھے تو ہمیں اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ چاہیے۔


محبتِ رسول ﷺ صرف آنکھوں سے آنسو بہانے کا نام نہیں؛ یہ اپنے کردار میں اُس محبت کا عکس پیدا کرنے کا نام ہے۔ کسی کو معاف کرنا، کسی کا دل نہ دکھانا، ضرورت مند کا ہاتھ تھامنا، غم زدہ کے ساتھ کھڑا ہونا، کمزور کو عزت دینا اور اختلاف رکھنے والے کے ساتھ بھی شائستگی سے پیش آنا—یہ سب سیرتِ طیبہ ﷺ کی عملی جھلکیاں ہیں۔


ہم اگر اپنے دلوں میں صرف ایک عہد پیدا کر لیں کہ ہماری زبان کسی کا دل نہیں توڑے گی، ہمارے ہاتھ کسی پر ظلم نہیں کریں گے، ہماری نگاہ کسی کو حقیر نہیں سمجھے گی اور ہمارے اختیار سے کسی پر زیادتی نہیں ہوگی تو شاید ہمارے معاشرے میں وہ روشنی لوٹ آئے جس کی تلاش میں ہم صدیوں سے بھٹک رہے ہیں۔


محمد ﷺ کا اخلاق ایک چراغ ہے؛ جو دل میں روشن ہو جائے تو انسان بدل جاتا ہے، اور جب انسان بدل جائے تو معاشرہ بدلنے لگتا ہے۔


دنیا آج بھی امن، محبت، برداشت اور انسانیت کی تلاش میں ہے۔ اس تلاش کا سب سے روشن راستہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ میں موجود ہے۔ ہمیں صرف آپ ﷺ سے محبت کا دعویٰ نہیں کرنا، بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا آئینہ بنانا ہے۔


کیونکہ محبتِ محمد ﷺ کی سب سے خوبصورت گواہی ہماری زبان نہیں، ہمارا کردار ہے۔


اور جب کسی انسان کے اخلاق میں رحمت، گفتگو میں نرمی، معاملات میں دیانت، دل میں محبت اور اختیار میں معافی اتر آئے تو سمجھ لیجیے کہ اس کے اندر اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کی ایک کرن روشن ہو چکی ہے۔


درود و سلام ہو اُس عظیم ہستی ﷺ پر، جنہوں نے انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھایا اور اخلاق کو عبادت کی روح بنا دیا۔اگر عنوان کو مزید شاعرانہ اور مختصر رکھنا ہو تو میری نظر میں اس کالم کے لیے یہ عنوان بھی بہت مؤثر ہے: "محمد ﷺ — اخلاق کی وہ خوشبو جو قیامت تک مہکتی رہے گی"۔