انسان کی زندگی میں کئی عدالتیں ہوتی ہیں، جہاں مقدمے سنے جاتے ہیں، گواہیاں پیش کی جاتی ہیں اور ثبوتوں کی روشنی میں فیصلے سنائے جاتے ہیں، مگر ایک عدالت ایسی بھی ہے جہاں نہ کسی وکیل کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کسی گواہ کی اور نہ ہی کسی ثبوت کی۔ اس عدالت کا نام ضمیر ہے، جو انسان کے ہر عمل، ہر نیت اور ہر فیصلے سے واقف ہوتا ہے۔ دنیا کی نظروں سے بچ کر انسان شاید اپنی غلطیوں پر پردہ ڈال لے، مگر اپنے اندر اٹھنے والی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کر سکتا۔ آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی کامیابی کا معیار بدل لیا ہے۔ دولت، عہدہ، شہرت اور اختیار کو عزت کی علامت سمجھا جانے لگا ہے، جب کہ سچائی، دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری جیسی خوبیاں اکثر کمزوری تصور کی جاتی ہیں۔ لوگ دوسروں کے حقوق پامال کرکے آگے نکلنے کو کامیابی سمجھتے ہیں، کسی مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے میں عار محسوس نہیں کرتے اور اپنے مفاد کی خاطر سچ کو جھوٹ کے پردے میں چھپا دیتے ہیں، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا کو مطمئن کرنا آسان ہو سکتا ہے، اپنے ضمیر کو مطمئن کرنا نہیں۔ ضمیر کی عدالت میں انسان کا عہدہ نہیں، اس کا کردار دیکھا جاتا ہے۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تمہارے پاس کتنی دولت تھی، کتنے لوگ تمہارے ساتھ کھڑے تھے یا معاشرے میں تمہارا کتنا اثر و رسوخ تھا، بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ تم نے اپنے اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا؟ کسی مظلوم کی فریاد سن کر تم نے اس کا ساتھ دیا یا خاموش تماشائی بنے رہے؟ کسی بے گناہ پر الزام لگایا گیا تو تم نے سچ کا ساتھ دیا یا اپنی مصلحت کو ترجیح دی؟ کسی غریب کے حق پر ڈاکا پڑا تو تم نے آواز اٹھائی یا اپنے فائدے کی خاطر آنکھیں بند کر لیں؟ یہ سوال بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر انسان کی پوری زندگی کا حساب انہی سوالوں میں پوشیدہ ہے۔ ہم اکثر دوسروں کی غلطیوں پر انگلی اٹھانے میں دیر نہیں لگاتے، لیکن جب اپنی باری آتی ہے تو ہزار بہانے تراش لیتے ہیں۔ کبھی حالات کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، کبھی مجبوریوں کا سہارا لیتے ہیں اور کبھی یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ دنیا میں سب کچھ اسی طرح ہوتا ہے، حالاں کہ کسی غلط کام کا عام ہو جانا اسے درست نہیں بنا دیتا۔ اگر پورا معاشرہ ناانصافی کو قبول کر لے، تب بھی ناانصافی، انصاف نہیں بن سکتی۔ اصل بہادری یہ نہیں کہ انسان اپنی غلطی کو دلیلوں کے پیچھے چھپا لے، بلکہ اصل بہادری یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرے، اس پر نادم ہو اور جہاں ممکن ہو، اس کا ازالہ بھی کرے۔ معافی مانگنے سے انسان کی عزت کم نہیں ہوتی؛ اس کے برعکس اپنی انا کی خاطر غلطی پر قائم رہنا انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جو شخص اپنے ضمیر کی آواز سن لیتا ہے، اس کے لیے اصلاح کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ایک استاد اگر اپنے شاگرد کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے، ایک افسر اگر اختیار کے نشے میں کسی غریب کا حق مارتا ہے، ایک تاجر اگر چند سکوں کے فائدے کے لیے ملاوٹ کرتا ہے اور ایک صاحبِ حیثیت شخص اگر کسی بے بس انسان کی عزت کو اپنی طاقت کے نیچے روند دیتا ہے تو شاید وہ وقتی طور پر فائدہ حاصل کر لے، مگر اس فائدے کی قیمت اسے کسی نہ کسی صورت ادا کرنا پڑتی ہے۔ کبھی بے سکونی کی شکل میں، کبھی رشتوں میں تلخی بن کر اور کبھی تنہائی کے ان لمحوں میں جب انسان اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرے کی اصلاح صرف قوانین بنانے، سزائیں دینے اور دوسروں کو نصیحت کرنے سے ممکن نہیں۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہر شخص اپنے اندر جھانکنے کی عادت اپنائے گا۔ اگر ہر انسان دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کرے، اپنے قول و فعل میں سچائی پیدا کرے اور کسی کا حق مارنے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز سن لے تو بہت سے مسائل جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔ زندگی مختصر ہے اور وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ آج ہمارے پاس اختیار ہے، کل شاید نہ ہو؛ آج ہمارے پاس کسی کی مدد کرنے کا موقع ہے، کل شاید وہ شخص ہمارے درمیان موجود نہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کو محض دنیاوی کامیابیوں کے حصول تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے کردار کو بھی اتنا مضبوط بنائیں کہ تنہائی میں خود سے ملاقات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ ہو۔ یاد رکھیے، دنیا کی عدالت میں فیصلہ سننے کے لیے انسان کو انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، مگر ضمیر کی عدالت ہر اس لمحے بیدار ہو سکتی ہے جب انسان حق اور باطل کے درمیان انتخاب کرتا ہے۔ اس عدالت سے فرار کا کوئی راستہ نہیں، کیونکہ اس کا قاضی بھی انسان کے اندر ہے، گواہ بھی اس کے اعمال ہیں اور سب سے بڑا ثبوت اس کی اپنی نیت ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا آپ کو بے قصور سمجھے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کا ضمیر بھی آپ کے کردار کی گواہی دے۔
مزید پڑھیں






