خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں،یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے

فرحت زاہد ایک تازہ کار اور ضمیر دار شاعرہ ہے
0
119
poet

خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں
یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے

فرحت زاہد

معروف شاعرہ فرحت سلطانہ المعروف فرحت زاہد 23 مارچ 1960،میں ملتان میں پیدا ہوئیں اور تعلیم بہاول پور میں حاصل کی۔30 برس دبئی اور نیویارک میں گزارے اور اب لاہور میں مقیم ہیں۔وہ کافی عرصے سے شاعری کر رہی ہیں ان کا کلام اہم رسائل جیسے ’فنون‘، ’اوراق‘اور’نقوش‘ میں شائع ہو چکا ہے۔ مشاعروں میں شرکت بھی کرتی رہی ہیں۔ دو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں’ لڑکیا ں ادھوری ہیں‘ اور ’عشق جینے کا اک سلیقہ‘ شائع ہو چکے ہیں۔ تانیثیت کا مدھم لہجہ ان کی غزلوں کی شناخت ہے۔

روشن لفظوں کی شاعرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:شبنم رومانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرحت زاہد ایک تازہ کار اور ضمیر دار شاعرہ ہے، اُس کا کینوس وسیع ہے۔ وہ اپنی ذات کے حوالے سے پورے طبقۂ اناث کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتی نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں خاص طور سے متوسط طبقہ اُس کی فکر کا محور ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ انسانی مستقبل اور عالمی صورتِ حالات سے بھی بے تعلق نہیں ہے۔ اپنے اور غیروں کے دکھ سکھ میں نہال رہنے والی یہ شاعرہ قدم جما جما کر آگے بڑھ رہی ہے۔ ترقی وہ ہے جو تدریجی ہو۔ چھلانگیں لگانے والے اکثر اوندھے منہ گرتے ہیں او پھر سنبھل نہیں پاتے۔ خیال کی تازگی اور اظہار کے توازن نے اُس کو ہر مکتبِ فکر کے لیے قابلِ قبول بنا دیا ہے، اس انکسار میں ایک افتخار بہرحال اُس کو سربلند رکھتا ہے کہ وہ عورت ہے جو محبت اور رفاقت، خدمت اور قربانی، تہذیب اور اخلاق کی علامت ہے جس کی وجہ سے تصویرِ کائنات میں رنگ ہے مگر جس کی ”مظلومی“ کو عقدۂ مشکل بناکر چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہ بظاہر کومل اور کمزور سی لڑکی حقیقتاً جرأت اور استقامت کا پیکر ہے۔ فرحت کئی محاذوں پر ایک ساتھ لڑ رہی ہے۔ اُس کا پہلا مدِ مقابل خود اس کا وجود ہے، دوسری امتحاں گاہ اس کا اپنا گھر ہے۔ تیسرا معرکہ معاشرے سے ہے اور چوتھا مورچہ ” محاذِ فن“ ہے۔
فرحت کے ہاں عورت کے سب رُوپ طرح دارا نہ حسن کاری اور فنکارانہ حقیقت نگاری کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ کچّے رستوں سے ناآشنا اور بارشوں میں دھلی ہوئی یہ لڑکی عورت بن کر ایک الف لیلوی عالم سے دو چار ہوتی ہے تو ماں بن کر مامتا کے عظیم تجربے سے گزرتی ہے۔ یہ تبدیلی اس کے لیے اُڑن کھٹولے کے ذریعے دوسری دُنیا میں اُترنے کے مترادف ہے۔

فکر و احساس کی اس دوسری دُنیا کے علاوہ ایک تیسری دنیا بھی ہے، کولمبس جس کو پہلی دنیا سمجھا تھا اور جس کو اب بھی پہلی دُنیا ہی کہا جاتا ہے۔ وہ عملاً اڑن کھٹولے کے ذریعے اس دنیا میں پہنچی ہے۔ یہاں کے شب و روز اور ان کے سیاق و سباق سب مختلف ہیں۔ یہاں چاروں طرف کرنسی نوٹوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے جو کمزور طبع لوگوں کو مدہوش کیے دیتی ہے۔ یہاں آرائشوں اور آلائشوں اور آسائشوں کا ایک طلسمی جال ہے، فرشتے بھی جس میں گرفتار ہونے کے لیے بیتاب نظر آتے ہیں۔

مگر فرحت نے نقل مکانی کے باوجود اصل مکانی کو نہیں چھوڑا اور اپنی ”روحی“ کی محبت سے منہ نہیں موڑا۔ اس کے ہاں وطن کی محبت کا روایتی اور عامیانہ اعلان نہیں ہے بلکہ اپنی ثقافت، اپنی تہذیب، اپنی زمین اور اپنے آسمان سے محبت کی ایک نہایت بلیغ صورت اظہار ہے۔ وہ ہجرت کا دکھ سہتی ہے مگر ہجر کی عظمت کی بھی قائل ہے۔ وہ اداس ہے مگر مایوس نہیں ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں بھی روشنی کی ایک کرن کا پلو پکڑے رہتی ہے۔ اُس کی یہ رجائی سوچ اُس کی شاعری کا بڑا مثبت پہلو ہے جو اُس کے لیے امکانات کے نئے نئے در وا کرتی رہتی ہے۔
ہم اپنی مشعلِ احساس لے کے جب نکلے
تمام لفظ تھے روشن سخن کے رستے میں

غزل
۔۔۔۔۔
اس کی خاطر رونا ہنسنا اچھا لگتا ہے
جیسے دھوپ میں بارش ہونا اچھا لگتا ہے
خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں
یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے
سانجھ سویرے کھلتے ہیں جب تیتریوں کے پر
اس منظر میں منظر ہونا اچھا لگتا ہے
بارش آ کر برس رہے گی موسم آنے پر
پھر بھی اپنا درد چھپانا اچھا لگتا ہے
بادل خوشبو اور جوگی سے آخر کون کہے
مجھے تمھارا آنا جانا اچھا لگتا ہے

غزل
۔۔۔۔۔
عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے
کمال ہونے لگا ہے کمال سے آگے
وہ ایک لمحہ جو تتلی سا اپنے بیچ میں ہے
اسے میں لے کے چلی ماہ و سال سے آگے
کوئی جواز ہو ہمدم اب اس رفاقت کا
تلاش کر مجھے میرے جمال سے آگے
جواب خواب بھلا خواب کے سوا کیا ہے
مگر وہ نکلا نہیں ہے سوال سے آگے
پگھل رہا ہے مرا دن سیاہ راتوں میں
کہانی گھوم رہی ہے زوال سے آگے
رکے ہوئے ہیں کنارے پہ وہ تلاطم ہے
یہ شہر عشق ہے اور ہے مجال سے آگے
مشام جاں میں کوئی دیپ سا جلائے ہوئے
نکل چلی ہوں میں رنج و ملال سے آگے

غزل
۔۔۔۔۔
خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا
موسم کا پرندہ ہے ٹھکانا نہیں کرتا
وہ عشق میں شعلوں کا طلب گار ہے لیکن
اس آگ میں مر جانے کا سودا نہیں کرتا
وہ پچھلی محبت میں مرے دل کا خسارہ
اسباب دروں وہ کبھی پوچھا نہیں کرتا
کرتا ہے ہر اک رنگ کی چڑیوں سے وہ باتیں
پہنائی میں دل کی کبھی اترا نہیں کرتا
اس شہر میں جینے کی ادا سیکھ رہی ہوں
بیتے ہوئے کل پر یہ گزارا نہیں کرتا

Leave a reply