fbpx

‏یوم شہادت حضرت عثمانؓ بن عفانؓ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

حضرت عثمانؓ بن عفانؓ کا نام عثمانؓ کنیت ابو عبداللہ اور ابو عمر تھا، آپ کے والد کا نام عفانؓ بن ابی العاصؓ تھا، عثمانؓ بن عفانؓ تعلق شہر مکہ مکرمہ کے قبیلہ قریش کی شاخ بنوامیہ سے تھا

عثمان غنیؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، آپؓ کا شمار آپﷺ کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے اور اُمت مسلمہ میں کامل الحیاء والایمان کے الفاظ آپؓ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں، آپؓ کا سلسلہ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر آپ ﷺسےجاملتاہے۔ آپ ؓ خليفہ سوم تھے، آپؓ کی نانی آپﷺ کی سگی پھوپھی اورآپ ﷺْ کے والد حضرت عبداللہؓ کی جڑواں بہن تھیں، اس رشتے سے بھی آپؓ حضرت محمدﷺْکےقریبی رشتے دار تھے

آپؓ چوتھے ایسے شخص تھے جہنوں نے اسلام ،
قبول کیا، آپﷺ عثمان غنیؓ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ آپؓ  نبی کریمﷺ کےدوہرے داماد تھے، حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ سے دو بیٹیوں حضرت رقیہ ؓ اور انکے انتقال کے بعد حضرت ام کلثومؓ کی شادی فرمائی اور ذو النورین کا خطاب دیا، اللہ تعالیٰﷻ نےآپؓ  کوخوب مال عطافرمایاتھا، اور آپ اللہ عطا کردہ مال میں سےبہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اس لئے اللہﷻ کے آخری رسول حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ کو "غنی” کا لقب عطا فرمایا۔

آپؓ نے ٢٤ ہجری میں نظام خلافت کو سنبھالا،آپؓ خلیفہ مقرر ہوئے، تو شروع میں عثمان غنیؓ نے ٢٢ لاکھ مربع میل پر حکومت کی، مختلف علاقوں کو فتح کر کے آپؓ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا.

آپؓ کو اللہﷻ نے عظیم صفات سے مُتصف فرما کر صحابہ اکرام ؓ میں ممتاز فرمایا،جو اُن ہی کا حصہ ہے، آپؓ شرم و حیا کا ایسا پیکر تھے، کہ فرشتے بھی آپ ؓسے شرم وحیا کرتے تھے ۔آپؓ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبویﷺ کی توسیع اور قرآن مجید کو یکجا فرمایا۔

اسی طرح مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی بڑی کمی تھی شہر مدینہ منورہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا، جوحضرت عثمان نے ۳۵ ہزار درہم کے عوض یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا جس پر حضرت مُحَمَّد ﷺ نے عثمان کو جنت کی بشارت دی۔

٤٥ ہجری میں باغيوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کرکے آپؓ کا کھانا، پینا بند کردیا گیا، ٤٠ دنوں تک آپؓ اور آپؓ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا آپؓ کے ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپؓ نے فرمایا کہ میں اپنے نبی حضرت مُحَمَّد ﷺکے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا، عثمان غنیؓ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود آپﷺ کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری

٤٠ دن بھوکے، پیاسے ٨٢ سالہ آپؓ کو جمعہ کے دن ،١٨ ذو الحج ٣٥ ؁ء ہجری کو قران مجید کی تلاوت کےدوران انتہائی درد ناک انداز میں عثمان غنی ؓ شہید کردیا گیا۔شہادت کے وقت آپؓ روزے سے تھے
اس جانکاہ حادثہ میں آپؓ کی زوجہ محترمہ کی اُنگلیاں بھی کٹ گئی تھیں اور تین دن تک عثمان غنیؓ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ شہید کرنے کے بعد باقیوں نے آپؓ کا گھر بھی لوٹ لیا

آپؓ نے اپنی ساری زندگی دین اسلام، محبت رسولﷺ اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری، آپؓ عبادت، حیاء، تقوی، طہارت، صبر، شکر کے پیکر تھے۔ آپؓ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالمِ انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔

آپؓ کی قبر مبارک مسجد نبویﷺ شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے۔ اللہ پاکﷻ انکے درجات بلند فرمائے اور انکی قبر پر کروڑ کروڑ رحمتیں نازل فرماٸے۔آمین یار رب العالمین!

‎@JahantabSiddiqi