fbpx

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوحہ میں شروع

ایرانی 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں، امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات دوحہ میں شروع ہو گئے-

باغی ٹی وی : ایران کی جانب سے امریکا سے براہ راست ملنے اور مزاکرات کرنے سے انکار کے بعد یورپی یونین سفارکاروں کے ساتھ ان مزاکرات کا انعقاد کیا گیا ہے امریکیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت سے ”ایرانی انکار کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ کے حکام نے دونوں اطراف کے پیغامات پہنچانے کے لئے کئی چکر لگائے ہیں۔ ایک سینئر امریکی ذمہ دار نے اس بارے میں کہا تھا کہ واشنگٹن نے مزاکرات کے بارے توقعات کو نظر رکھی ہوئی تھی۔

برٹش کولمبیا کے بینک میں فائرنگ، 2 مسلح افراد ہلاک،6 پولیس اہلکار زخمی

امریکہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ میلے اور ایران کے علی باقری 2015 کے معاہدے کی واپسی پر ویانا میں یورپی یونین کی ثالثی میں ہونے والی ایک سال سے زائد بات چیت کے بعد ان دوحہ میں موجود ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے، دوحہ میں ہونے والے مذاکرات بالواسطہ طور پر ہوں گے، وفود الگ الگ کمروں میں اور ثالثوں کے ذریعے بات چیت کریں گے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان پیٹر اسٹانو نے کہا کہ قطری دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات ویانا مذاکرات کو “ان بلاک” کرنے کے عمل کا آغاز ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت مپ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔

دوسری جانب تجزیہ کا ر اور وہ سفارت کار جو ان مذاکرات کے سے قریب رہے ہیں کافی پر امید ہیں کہ معاہدہ جلد ہو سکتا ہے۔ لیکن ایران کا مطالبہ ہے کہ پاسدران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا جانا واپس لیا جائے۔ جبکہ جو بائیڈن انتظامیہ اس سے انکار کر چکی ہے اور اس انکار کو روسی رکاوٹوں سے جوڑتی ہے۔

جاپان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

امریکہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ ہے مگر اس کے لیے ایران کو جوابا لبنانی حزب اللہ کی حمایت ختم کرنا ہو گی اور پاسداران انقلاب کی شام اور یمن کی جنگ میں شرکت روکنا ہوگی۔ لیکن چونکہ ایران ان باتوں سے انکاری ہے اس لیے امریکہ نے بھی پاسدران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا معاملہ اب پنے پیش نظر نہیں رکھا ہے۔

یاد رہے اس سے پہلے طویل مذاکرات کے بعد جنوری 2016 میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے پر براک اوباما کے دورِ صدارت میں دستخط کیے گئے تھے، لیکن ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پہنچنے سے بہت پہلے واضح کر دیا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ‘بدترین ڈیل‘ ہے اور بار بار اسے ‘خوفناک‘ اور ‘مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے طنز کیا۔

صدر ٹرمپ نے مئی 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی تھیں۔

روس نےامریکی صدر،اہلخانہ سمیت 25 افراد کوبلیک لسٹ کردیا