صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس آج 7 اکتوبر سوموار کو ایوان صدر میں ہو رہی ہے

آل پارٹیز کانفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور شہبازشریف شریک ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اے پی سی میں شریک ہیں،مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق، بلاول زرداری،چوہدری سالک حسین، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، خالد مقبول صدیقی، راجہ پرویز اشرف،سید یوسف رضا گیلانی ،عبدالعلیم خان،سمیت دیگر شریک ہیں. ثروت اعجاز قادری، انوار الحق کاکڑ، لیاقت بلوچ، احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق، شاہ غلام قادر، امیر مقام، نیئر بخاری، شیری رحمان، نوید قمر بھی اے پی سی میں شریک ہیں.

ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،نواز شریف
سابق وزیراعظم نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب میں کہاکہ دنیا کے اندر خوفناک قسم کی بربریت والا کیس ہے، جس طرح سے غریب فلسطینیوں کا جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے، کوئی سازو سامان نہیں ہے، کوئی ملٹری طاقت نہیں ہے، اس پر جس بے دردی سے ظلم ڈھایا جا رہا ہے،یہ تاریخ کی بدترین مثال ہے، ہم سب کا دن خون کے آنسو روتا ہے جب ہم بچوں کی خون آلودہ تصاویر دیکھتے ہیں، پورے کا پورا شہر اور انکے علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں، معصوم بچوں کو والدین کے سامنے شہید کیا جا رہا، ماؤں کی گود سے بچے چھین کر شہید کیئے جا رہے ایسا زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، دنیا نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اس میں انسانی مسئلہ نہیں سمجھتے بہت سا طبقہ مذہبی مسئلے کے طور پر بیان کرتا ہے اور سمجھتا بھی ہے، جس طرح کا غاصبانہ قبضہ اسرائیل نے کیا اور پھر اقوام متحدہ بے بس بیٹھی ہوئی ہے، انکی پاس کردہ قرارداد پر کوئی عمل نہیں ہو رہا، شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ اٹھایا میں نے تقریر کا ایک ایک لفظ سنا، وہ باتیں کیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لوگوں نے سراہا،یہ صورتحال افسوسناک ہے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مظالم جاری ہیں ،وہ بڑی ڈھٹائی سے مظالم کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کوبھی کوئی فکر نہیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج تک عمل نہ ہو سکا، ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،مجھے یاد ہے کہ یاسر عرفات جب پاکستان آئے تو میری ان سے دوبار ملاقات ہوئی میں نے انکے جذبات سنے ہوئے، انہوں نے بڑی جدوجہد کی فلسطینی عوام کے لئے، فلسطینیوں کا خون رنگ لا کر رہے گا، اللہ بھی دیکھتا ہے، انسانیت کچھ نہیں کر رہی،اس سلسلے میں شہباز شریف جو روڈ میپ دیا اس پر غورو خوض ہونا چاہئے، اسلامی ممالک کو اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئے، اسلامی ممالک کی قوت کا استعمال کب کریں گے، ایک پالیسی بنانا پڑے گی ورنہ ہم اسی طرح بچوں کا خون ہوتا دیکھتے رہیں گے، کچھ نہیں کر پائیں گے، اسرائیل کیوں دندناتا پھرتا ہے اسکے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں، انکو بھی سوچنا چاہئے کہ کب تک فلسطین کے لوگوں کے صبر کا امتحان لیں گے.ہمیں عوامی توقعات پر بھی پورا اترنا ہے، جلدی اقدامات کئے جائیں، تاخیر نہیں ہونی چاہئے،پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت کے سامنے خاموشی اختیار کرنا انسانیت کی ناکامی ہے

فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے،مولانا فضل الرحمان
اے پی سی میں سٹیج سیکرٹری کےفرائض شیری رحمان نے سرانجام دیئے، اے پی سی سے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ناسور کا سب سے اولین فیصلہ 1917 میں برطانیہ کے وزیر خارجہ کے جبری معاہدے کے تحت ہوا، اس وقت سے فلسطین کی سرزمین پر بستیاں قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، ہمیں پاکستان کی پوزیشن معلوم کرنی چاہئے،پاکستان مین 1940 کی قرارداد میں فلسطین میں یہودیوں کی بستیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا، جب اسرائل قائم ہوا تو قائداعظم نے اسے ناجائز بچہ کہا، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالہ سے پہلا تبصرہ کیا کیا اور اسرائیل کے صدر نے پہلا بیان کیا دیا کہ دنیا کے نقشے پر نوزائدہ اسلامی ملک کا خاتمہ ہمارا مقصد ہو گا، اب ہمین سوچنا چاہئے کہ کس بنیاد پر ہم نے لوگوں کو مواقع فراہم کئے کہ وہ لوگوں کو ٹی وی پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے حمایت کریں ایسا کیوں ہوا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کیوں ہوئیں؟ حماس نے 7 اکتوبر کو حملہ کیا جس نے فلسطین کے مسئلے پر نوعیت ہی تبدیل کر دی، آج فلسطینی ریاست یا دو ریاستی حل کی بات ہو رہی، ہم دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے، یہ عرب کی زمین ہے،یہاں یہودیوں کی بستیوں کا کوئی جواز نہیں ہے، سات اکتوبر کو آج ہم بیٹھے ہیں، کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، سیاسی معاملات پر اختلافات رائے ہے لیکن فلسطین پر ہم سب ایک ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر بھی ہمیں یکجہتی دکھانی چاہئے، دنیا کے اعتماد کے لئے داخلی یکجہتی ضروری ہے.50 ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں، بچے، خواتین، غیر مسلح ، بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن کے جنازے پڑھے گئے یہ وہ تعداد ہے، دس ہزار کے قریب اب بھی ملبوں تلے دبے ہوئے،جن کے جنازے نہ ہو سکے، امت مسلمہ نے ایک سال میں غفلت دکھائی وہ جرم ہے اور ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں،کیوں مسلمانوں نے انکی مدد کیوں نہیں کی، کیا ہمیں احساس ہے،ہم سے تو جنوبی افریقہ اچھا ثابت ہوا جو عالمی عدالت چلا گیا، اقوام متحدہ نے قرارداد پاس کی تو اسرائیل نے سیکرٹری جنرل کو اسرائیل آنے سے روک دیا، یہ ساری صورتحال لمحہ فکریہ ہے، ایک کانفرنس،قرارداد،اعلامیہ سے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا حق ادا نہیں کر سکتے، ہم سب مصلحتوں کا شکار ہیں کہیں ایسا، ویسا نہ ہو جائے، ہمیں اس کیفیت سے نکلنا ہو گا،سعودیہ ،ترکیہ، ایران ،مصر کے ساتھ ملکر گروپ بنایا جائے اسلامی ممالک کا، جو اس معاملے کو اٹھائے،

اعلامیہ سے دو ریاستی حل نکالیں،آزاد فلسطینی ریاست چاہئے، حافظ نعیم کا اے پی سی میں مطالبہ
حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اے پی سی سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ایک سال میں‌85 ہزار ٹن بارود پھینکا ہے، اسی فیصد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، 42 ہزار شہادتیں ہوئی، صحافیوں، ڈاکٹر ،پیرا میڈیکس کی موت ہوئی، ہسپتال تباہ کئے گئے، اسکولوں، مسجدوں، چرچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ انسانیت کے خلاف بدترین عمل ہے جو اسرائیل کر رہا ہے، ہمیں اس پلیٹ فارم سے فلسطین کی آزاد ریاست کا پیغام جانا چاہئے، دو ریاستی حل درست نہیں، ہم اسرائیل کی سٹیٹ کو قابض گروہ سمجھتے ہیں، سٹیٹ سمجھتے ہی نہیں، بانی پاکستان نے بھی یہی کہا تھا،اسرائیل اب خیموں پر حملے کر رہا، فاسفورس بم پھینک رہا ہے، کل ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں ہوں گے، انکی بنیاد دہشت گردی پر ہے، امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا پشت بان ہے، امریکہ اسرائیل کو نقد امدا د دے رہا ہے تو وہیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے، وہی اسلحہ ہمارے بچوں پر ہو رہا انسانیت کی توہین ہو رہی،امریکا نے کتنے لوگوں کا قتل عام کیا، پاکستان کو حماس بارے واضح مؤقف اپنا چاہئے، میرا مطالبہ ہے کہ حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، حماس نے الیکشن جیتا ہے،حماس سیاسی جماعت ہے اسکو اختیار نہیں دیا گیا، وہ الیکشن جیتے ہیں،ہمیں کس بات کا ڈر لگتا ہے، امریکا نے ہمیں ابھی تک دیا کیا ہے؟ ہمیں واضح طور پر ان قوتوں کو جو انسانیت کا نام لے کر قتل کرتے ہیں انکو ایکسپوز کرنا چاہئے، وائیٹ ہاؤس کے باہر احتجاج ہو سکتا ہے ہمیں کہا جاتا ہے ایمبیسی کی طرف نہ جائیں، ان رویوں پر غور کرنا ہو گا.دو ریاستی حل کسی صورت قبول نہیں، صرف فلسطین کی آزاد ریاست کی بات کرنی چاہئے،اتحاد میں ہی ہماری نجات ہے، حسن نصر اللہ، اسماعیل ہنیہ کو اسرائیل کا میزائل لگا ہے، انہوں نے شیعہ سنی نہیں دیکھا، ہمیں اس تقسیم کو ختم کرنا ہے، سعودی عرب ایران کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں اسرائیل کے حق میں جو آواز ہو گی وہ نہیں ہونی چاہئے، کونسا اسرائیل دو ریاستی حل کو مانتا ہے، اعلامیہ سے دو ریاستی حل والی بات نکالنی چاہئے، اگر آپ کے اوپر کوئی پریشر بھی ہے تو نکال دیں، اگر نہیں نکالتے تو ہمارا مؤقف لکھیں کہ ہمیں فلسطین کی آزاد ریاست چاہئے،دو ریاستی حل کو نہیں مانتے.

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے غزہ کے حوالہ سے منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے انکار کر دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی ان حالات میں اے پی سی میں شریک نہیں ہو گی،ہمیں فلسطین پر اے پی سی میں شرکت کی دعوت مل گئی تھی، موجودہ حالات میں پارٹی رہنما اور کارکن گرفتار ہیں اور ان حالات میں اے پی سی میں شرکت نہ کرنےکافیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی کی عدم شرکت سے انکا دوہرا معیار واضح ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کو فلسطین کے معصوم بچوں سے نہیں بلکہ اسرائیل سے ہمدردیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر رہی.

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ شرمناک! تحریک انصاف نے ایک بار پھر اسرائیل نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ غزہ پر حملوں کے خلاف حکومتی میزبانی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے اپنی حقیقت واضح کر دی۔ پاکستان کے دشمنوں کے یار اب بے نقاب ہو چکے ہیں!

https://x.com/Ghulam1082345/status/1843244613009854550

فہمیدہ یوسفی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تحریک انصاف سے کسی قسم کی اچھائی کی امید رکھنا ایسے ہی جیسے آپ شیطان سے کہیں کہ وہ تائب ہوگیا ہے ،پی ٹی آئی نے فلسطین پر حکومت کی منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے متعلق فیصلہ تبدیل کرلیا، بیرسٹر گوہر نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے، اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی مرکزی رہنما اسلام آباد میں موجود نہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے اے پی سی میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب فیصلہ تبدیل کرلیا ہے۔

https://x.com/fahmidahyousfi/status/1843236281687662889

واضح رہے کہ عمران خان کی حمایت میں حالیہ دنوں میں اسرائیلی اخبارات میں مضامین بھی شائع ہو چکے ہیں.

حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

Shares: