fbpx

آئیے خوشیاں تلاش کریں۔(میری سوچ) تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی لاہور

قارئین نے پچھلے کچھ عرصہ میں دیکھا ہو گا کہ ہر دوسری سپیس (ٹوئیٹر پر) اسی موضوع پر ہو رہی تھی۔ اس وقت حالات حاضرہ، معاشی صورتحال، انحطاط کا شکار ہمارا معاشرہ، تربیت سے عاری نوجوان، والدین کی لاپرواہی سے رقم داستان، نوکریوں کا فقدان، کرونا کی بڑھتی گھٹتی غیر یقینی فضاء، امید و بیم میں پھنسی زندگی کی کشتی ہچکولے لیتی بڑھ تو رہی ہے لیکن ذہنی دباؤ، اور تناؤ کی صورتحال نے تقریبا” ہر شخص کو بےحال اور بدحواس کر رکھا ہے۔ صرف یہی معاملہ ہوتا تو شاید انسان وقتی طور پر صبر آزما حالات کا مقابلہ احسن طریقہ سے کر لیتا لیکن پاکستان میں رشوت ستانی کا بازار گرم ہے، اعمال کی بداعمالیوں سے پریشان ہے، سفارش اپنے عروج پر چل رہی ہے۔ اگرچہ حکومتی اقدامات بہت کئے جا رہے ہیں، لیکن جب قانون نافذ کرنے والے خود ملوث ہوں تو پرسان حال کوئی نہیں۔ ان تمام معاملات میں سونے پر سہاگہ مہنگائی کا اژدہا ہے کہ ہر شئے کو نگلنے کے درپئے محسوس ہوتا ہے۔ غریب انسان ایک جانب معاشی ابتری کا رونا ہی رو رہے ہیں کہ دوسری جانب امیر خاندانوں کے بے راہرو جوانوں نے غریب کی عزت کا جنازہ نکالنا شروع کردیا۔ آئے روز کے واقعات نے عجیب خوف کی فضاء پیدا کرکے ہر عزتدار انسان کو پریشان کر رکھا ہے۔ جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہاں محکمہ پولیس کی نااہلی اور عدالتوں کی سست روی کا شکار معاشرے کو فقط بے انصافی اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہیں۔
ان بیرونی حالات کے ساتھ ہی خاندانی نظام بھی ان عوامل کے اثرات سے بچ نہیں پا رہا۔ اثرات کم یا زیادہ ہر خاندان پر پڑتے نظر آتے ہیں۔ انفرادی طور پر قوم نظر نہیں آتی تھی تو اجتماعی طور پر نظام ناکام نظر آ رہا ہے۔ قریبی رشتوں نے بھی آنکھیں پھیرنا شروع کر دیں۔ سگے بہن بھائی کرونا کا سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، لمبے زمینی فاصلے، سماجی فاصلوں میں تبدیل ہونے لگے۔ اولاد، والدین، بہن بھائی، اقرباء اور پڑوسی، یعنی سبھی سماجی بندھنوں سے نکل کر سماجی فاصلوں کے راستوں پر گامزن ہو رہے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے، کہ سب کام بخوشی اور رضا و رغبت سرانجام پا رہا ہے۔

اب ان حالات میں ہر پاکستانی خوشی کی تلاش میں ہے۔ بظاہر اوپر والے حالات کسی کو بھی دل کا عارضہ عطا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ لیکن کیا یہ سب ایسے ہی ہے جیسا کہ نظر آ رہا ہے؟ سوال تو اٹھتا بھی ہے اور اکثر جہلاء میڈیا پر بیٹھ کر ان حالات کو مزید بڑھا چڑھا کر اپنی روزی روٹی کمانے میں مصروف ہیں۔ رہی سہی کسر یورپی میڈیا پوری کر دیتا ہے جو آئے دن ایسے ہونے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا نظر آئیگا۔ اپنے آپ سے چند سوالات کریں۔
۔ کیا یہ جنسی، راہزنی، ڈکیتی، چوری، بدمعاشی وغیرہ کے واقعات پہلے نہ ہوتے تھے؟
۔ کیا سب واقعات "قومی سطح کی خبر” کی حیثیت سے پیش کئے جاتے تھے؟
۔ کیا ہمارا میڈیا اچھائیاں بھی اسی انداز سے خبروں میں اسی رفتار سے شامل کرتا ہے؟
میرا خیال ہے کہ قارئین پر صورتحال بہت واضح ہو سکتی ہے اگر عمیق نگاہوں سے جائزہ لیا جائے۔ امید کا دامن چھوڑنا ناصرف عقلمندی نہیں بلکہ ناامیدی کو کفر کہا گیا ہے۔ کسی معاشرے کی تباہی اس کی قومی تباہی بن جاتی ہے۔ آئیے دو سطحوں پر الگ الگ بات کریں۔

قومی سطح۔

ہر پاکستانی کو چاہئیے کہ اپنے آپکو کسی بھی سیاسی پارٹی کا مستقل رکن یا سپورٹر نہ سمجھے۔ کسی بھی پارٹی کی سپورٹ فقط الیکشن تک محدود کر دیں۔ الیکشن کے بعد پوری قوم غیرجانبدار بن جائے۔ حکومت کا ساتھ ہر شخص غیر مشروط طور پر دے۔ لیکن ہر غلط کام پر سب ایک ہو کر آواز بلند کریں۔ سختی سے روکنے کی کوشش کریں۔ تصحیح کریں۔ درستگی کا عمل شروع کرائیں۔ ہر برائی کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔ رشوت لینے والوں کو بےنقاب کریں۔ سفارش کرانے والوں کے نقاب نوچ لیں۔ برائی سے نفرت کو عروج پر پہنچا دیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد اگلے الیکشن تک کسی سیاسی کال پر کان مت دھریں۔ یوں رفتہ رفتہ قائدین کی فہرست سے نااہل لوگ نکلتے رہیں گے۔ یاد رکھیں یہ ہم سب کا ووٹ ہے جو ایک عام آدمی کو کندھا دیکر ایوان اقتدار تک پہنچاتا ہے۔ تو آئیے اسی ووٹ کے ذریعے ایسے قائدین کو جو بداعمال ہوں، بدکردار ہوں یا نااہل ہوں، کندھا دیکر ہمیشہ کیلئے سیاسی قبرستان میں دفن کر دیں۔

محدود اور خاندانی سطح۔
اپنے اردگرد نگاہ رکھیں۔ کسی برائی پر آنکھ بند کرنا چھوڑ دیں۔ خود سے گریبان پکڑنے کی عادت ڈالیں۔ لیکن یہ سب تبہی ممکن ہے جب خود صاحب کردار ہونگے۔ اچھے برے کی تمیز رکھتے ہونگے۔ رشتوں کا تقدس اور خاندان کی اہمیت سے آگاہ ہونگے۔ یہ صبر آزما طویل راہ ہے اور مسافر کی قوت برداشت کا کڑا امتحان بھی ہے۔ حالات مقابلہ کرنے سے درست ہوتے ہیں ناکہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے خود بخود سدھرنے والے ہیں۔ ہر کام حکومت کے کرنے کا نہیں ہوتا۔ عوام کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ اپنے سے درستگی کا عمل شروع کرنے والے لوگ جلد ایسے حالات پر قابو پا سکتے ہیں۔ آخر بے راہرو لوگ کسی خاندان سے ہی تو ہیں، ہم سب سے ہی تو جڑے ہیں تو پھر صاحبان کردار کیوں بدکردار کی شامت بن کر سامنے نہیں آ سکتے؟
میری چند تجاویز آخر میں ہر فرد کیلئے عرضی ہیں۔
1۔ اپنے بچونکو درست و صحیح کی پہچان دیں۔
2۔ اپنے بچونکو معاشرے پر بوجھ مت بنائیں بلکہ ہنرمند بنا کر معاشرے کیلئے رحمت بنا دیں۔
3۔ اپنے گھروں میں بچونکو صاحبان کردار بنائیں۔
4۔ یاد رکھیں کہ پریوں کی کہانیاں، یورپ کی تاریخ، فکشن وغیرہ سے زیادہ سبق آموز، جاندار اور کردار ساز کہانیاں اسلام کی تاریخ میں ہیں۔
5۔ قرآنی تعلیمات کو فقط فرض ہی مت سمجھیں بلکہ انسان کی فطرتی ضرورت مان کر بچونکو کو سکھائیں۔
6۔ رشتوں کا پاس، پڑوسی کے حقوق، اقرباء کے حقوق، عزت و احترام کے اسباق، استاد کے مقام کا تعین، کام پر اسلام کے قوانین کا اطلاق، زندگی میں شریعت کی اہمیت۔۔۔ سب ہی چھوٹی عمر میں بچونکی تعلیم کا نصاب ہونا لازم ہے جو والدین کی اولین ترجیحات میں ہونا لازم ہے۔
7۔ انفرادیت سے نکال کر اجتماعیت کی طرف رغبت دیں۔

حکومتی سطح پر بھی بہت سے کام ہونے والے ہیں جو بنیاد کو درست سمت دے سکتے ہیں۔ کسی زمانہ میں ہماری دینیات میں مضامین میں اہل بیت ع اور اصحاب رض کی کہانیاں اور اہم واقعات شامل تھے جنہیں رفتہ رفتہ نکال دیا گیا۔ ان سب کی موجودگی میں معاشرہ اتنا متشدد اور پریشانی سے دوچار نہ تھا اور ناہی منفی سوچ نظر آتی تھی۔ بہتر ہے کہ حکومت اس پر خاص توجہ دے اور نصاب کو بہتر انداز میں تشکیل دے تاکہ معاشرے کی تعمیر نو ہو سکے۔
اگر ہم سب ایک مقصد زندگی میں بنا لیں تو انفرادی طور پر اس کے حصول میں کوشاں ہو جاتے ہیں اور ذہن میں منفی رجحانات ختم ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے خوشی کا تعلق ہی مثبت سوچ سے جڑا ہے۔ جس دن ذہن سے منفی سوچ کا خارج کرکے مثبت سوچ کو لے آئے، یہی معاشرہ خوشیوں کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

٣١ اگست ٢٠٢١ء