سائفر کیس،کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟عدالت

0
111
imran khan shah mehmod qureshi

اسلام آباد ہائی کورٹ،سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکوشن ٹیم میں حامد علی شاہ، ذولفقار نقوی و دیگر عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دو گواہوں کے بیانات پڑھنا چاہوں گا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر کے بارے میں بتائیں کہ وہ ڈاکومنٹس فائل میں کیسے آتا ہے ،سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے تین گواہ پر کیس چلا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اعظم خان کا 154 کا بیان پڑھ دیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بیان کا خاص حصہ پڑھیں جو کیس سے تعلق رکھتا ہے ،

بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم خان کا 164 کا بیان پڑھا اور کہا کہ اعظم خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سائفر کو پبلک کرنے کا کہا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر اعظم خان نے پڑھا تھا ، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس نے کہا تو اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ اعظم خان نے سائفر پڑھا، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی سے کہا کہ سائفر کی ڈی کوڈ کاپی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک بیان میں کچھ اور ہے اور دوسرے میں کچھ اور؟ کیا آپ نے اعظم خان کو کنفرنٹ کیا تھا کہ اس وقت آپ نے یہ کہا تھا اور اب آپ نے کچھ اور کہا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان پر ہم نے نہیں ڈیفنس کونسلز نے جرح کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس میں جو ہوا یا بتایا وہ تو ریکارڈ کا حصہ ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ جی نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ ہوئی، ڈی مارش ہوا ، گواہوں نے بتایا کہ کاپی ایس پی ایم میں تھی ،انچارج ایس پی ایم نے بتایا کہ اس کے سامنے کاپی گم ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بنی گالا میں جو میٹنگ ہوئی وہ آفیشل میٹنگ تھی ، سلمان صفدر نے کہا کہ وہ میٹنگ ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے ، سائفر معاملے پر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا ،اجلاس کے بعد سائفر وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا ، اس مقدمے میں کئی ملزمان نکالے گئے اور کئی الزامات واپس لئے گئے، اعظم خان نے بنی گالہ میٹنگ کے منٹس لکھے، 31 مارچ 2022 کو نیشنل سکیورٹی میٹنگ ہوئی،سرکار کیس بنائے تو کیا ہونا نہیں چاہیے کہ تمام کاغذات سامنے رکھے، اعظم خان کے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے بیان میں فرق ہے،پرانے بیان سے پِھرنا ملزم کے حق میں جاتا ہے،

جسٹس میاں‌ گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر کو ٹوسٹ کیا، گواہ نے اس متعلق ایسا کیا کہا؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اعظم خان کے بیان میں تبدیلی کیا تھی وہ بتائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ اعظم خان نے ایسا کیا کہا کہ جس سے پراسیکیوشن کا کیس خراب ہوا ہو؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اعظم خان کا بیان تو مستقل رہا اور وہ اپنے پچھلے بیان سے نہیں ہٹے، اعظم خان کا بیان ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے سائفر گم ہو گیا،اعظم خان بتا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے جلسے میں دستاویز لہرایا، وہ یہ تو نہیں کہہ رہا کہ ڈاکومنٹ کیا تھا جس سے لگے کہ سائفر واپس مل گیا تھا، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جان بوجھ کو سائفر کاپی گمائی،گواہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اس کے سامنے سائفر کاپی کی تلاش کا کہا، اعظم خان عدالت میں بیان میں کہہ رہا ہے کہ سائفر Misplace ہو گیا، مِس پلیس الگ لفظ ہے اس سے کوئی بدنیتی نظر نہیں آتی،

سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

Leave a reply