fbpx

کردستان : زاخو میں بمباری سے 9 افراد ہلاک اور 23 زخمی

بغداد:عراق کے علاقے کردستان میں ترکی کی بمباری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی، واقعے کے بعد عراق نے ترکی سے اپنے ناظم الامور کو واپس بلالیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق بدھ کو کردستان میں ترکی کی بمباری میں 9 شہری جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عراقی سیاح اور بچے شامل ہیں، عراق کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ حملے میں کردستان کے علاقے میں عراق اور ترکی کی سرحد کے قریب واقع شہر زاخو میں ایک پارک کو نشانہ بنایا گیا، کرد وزیر صحت نے بتایا مرنے والوں میں ایک سالہ بچے سمیت دیگر بچے بھی شامل ہیں۔

ایرانی کردستان میں پاسداران انقلاب کا سینیر عہدیدارقاتلانہ حملے میں ہلاک

حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص حسن تحسین علی نے ان حملوں کو اندھا دھند قرار دیا، اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے شہری نے کہا ہمارے نوجوان اور بچے مر چکے ہیں، ہم کس سے رجوع کریں؟۔ ہمارے پاس صرف خدا ہے۔

واقعے پرعراق نے بغداد میں ترکی کے سفیر کو طلب کرکے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے، عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے ٹویٹ کیا کہ ترک افواج نے عراق کی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔

واقعے کے خلاف کربلا میں ترکی کے ویزا سینٹر پر لوگوں نے احتجاج کیا، مظاہرین کی جانب سے ترک پرچم نذر آتش کیا گیا جبکہ بغداد اور ناصریہ میں بھی مظاہرے ہوئے۔

عراقی کردستان کے سرحد پردہشت گردوں کے خلاف ایرانی پاسداران انقلاب کا آپریشن

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا شہریوں کا قتل ناقابل قبول ہے، تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ سمیت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔

دوسری جانب ترکی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ انہوں نے نہیں کیا بلکہ علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کی جانب سے کیا گیا ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ترک وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی واقعے کی تحقیقات کے لئے ہر طرح تیار ہے۔

کیہ فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت پر رضامند