fbpx

دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مودی سرکار کی کاروائیاں جاری ہیں

مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں مودی سرکار گرفتار کر رہی ہے، جب سے مودی برسراقتدار آئے اسوقت سے مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ ہوا، کبھی گائے کے گوشت کے نام پر مسلمانوں کو پیٹا گیا، کبھی اذان کی آواز آنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کبھی مسلم خواتین کو برقع پہننے پر زدوکوب گیا ،کئی مواقع پر تو ہندو انتہا پسندون نے مسلمانوں کی بستیوں کو ہی جلا کر راکھ کر ڈالا

اب مسلمانوں کے خلاف مودی سرکار کی نئی کاروائی سامنے آئی ہے، دہلی میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد ہیں، مسلم نوجوان جن کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا انکی شناخت اسامہ، ابوبکر، جان محمد،ذیشان قمر ، محمد عامر اور مول چند کے طور پر ہوئی ہے ، دہلی پولیس کے سپیشل سیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مسلمان دہشت گردوں کو دہلی، اترپردیش اور مہاراشٹر سے گرفتار کیا گیا ہے

دہلی پولیس نے ان مسلم نوجوانوں کو نہ صرف دہشت گرد کے طور پر پیش کیا بلکہ یہ بھی دعوی کیا کہ اسامہ اور ذیشان نے پاکستان سے تربیت بھی حاصل کی اور یہ مسلم نوجوان نوراتری، رام لیلا اور دیگر تہواروں کے موقع پر بھارت کی مختلف ریاستوں میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ،دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مسلم نوجوانوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا ہے،دہلی پولیس کے افسر ٹھاکر کے مطابق اسامہ اور ذیشان یہاں سے مسقط گئے اور وہاں سے پاکستان گئے، پاکستان جا کر ٹریننگ لی اور پھر واپس بھارت آئے،بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے انڈر ورلڈ سے روابط ہیں جو داؤد ابراہیم کے بھائی انیس ابراہیم کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، دہلی پولیس کے مطاق ان میں سے تین افراد کو اترپردیش ، دو کو دہلی اور ایک کو مہاراشٹر سے گرفتار کیا گیا ہے ،گرفتاری کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جلد اہم انکشافات سامنے آئیں گے

دوسری جانب ڈی کمپنی کے سی ای او اور انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا شکیل نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے چھوٹا شکیل کا کہنا ہے کہ ڈی کمپنی میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔ وہ گینگسٹر سے جنگ لڑتے ہیں

داؤد ابراہیم کو کراچی میں قتل کرنے کی بھارتی حساس اداروں کی سازش کب ہوئی تھی ناکام؟

بھارتی میڈیا کا کراچی میں داؤد ابراہیم کی چھتیسویں بار کرونا سے موت کا دعویٰ

ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ،داؤد ابراہیم کے ساتھی یوسف میمن کی جیل میں ہوئی موت

داؤد ابراہیم کا بھارت میں پھر چرچا، بھارت سرکار نے بڑا قدم اٹھا لیا

واضح رہے کہ بھارت گزشتہ کئی سالوں سے داؤد ابراھیم کا سراغ لگانے میں مصروف ہے لیکن ممبئی میں اُسکا اثر رسوخ آج تک ختم نہیں کر سکا۔ اب برطانیہ سے مدد مانگی جا رہی ہے داؤد ابراھیم کے ایک قریبی جابر صدیق (موتی والا) پر گھیرا تنگ کرنے کے لئے، بھارت یہی سمجھتا ہے کہ داؤد پاکستان میں ہے۔

1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً 700 سے زخمی ہوئے تھے. یہ بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہ کن مربوط بم دھماکے تھے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ بم دھماکے داؤد ابراہیم کے حکم سے یا امداد سے اس کے کارندے ٹائیگر میمن نے کیے۔

بھارت عدالت عظمیٰ نے اس مقدمہ کے 20 سال بعد اپنا فیصلہ 21 مارچ 2013 کو دیا۔ تاہم، مقدمہ کے دو اہم ملزمان داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن ابھی تک گرفتار نہیں کیے گئے۔ مہارشٹرا حکومت نے یعقوب میمن (ٹائیگر میمن کا بھائی) کو اس کی 53 ویں سالگرہ کے دن 30 جولائی 2015ء کو پھانسی دینے کا ارادہ کیا، یعقوب میمن نے رحم کی درخواست دی،مگر اسے رد کر دیا گیا۔ یعقوب کو 30 جولائی 2015 کو مہاراشٹر کے يروڈا جیل میں پھانسی دی گئی تھی

یہ بم دھماکے سنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے بعد ہوئے تھے جس میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے تھے۔فسادات کے رد عمل میں ہونے بم دھماکوں کا مقدمہ تو اپنے انجام کو پہنچا اور لوگوں کو سزائیں بھی ہوئیں لیکن ان فسادات کے دوران ایک ہزار افراد کو قتل کرنے والوں میں سے آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے