fbpx

احتساب کا آغاز وزیراعظم سے شروع ہونا چاہئیے،بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اہم بیان .جسٹس فائز عیسی کیس کی نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ خوش آئند ہے، پی ٹی آئی حکومت کی سپریم کورٹ کے جج کو بلیک میل، ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی، پی ٹی آئی حکومت نے دراصل عدلیہ پر حملے کی کوشش کی تھی.جو بھی عدلیہ پر حملے کی سازش کا حصہ بنے، پی ٹی آئی حکومت کے ان کرداروں کا محاسبہ ہونا چاہئیے، احتساب کا آغاز وزیراعظم سے شروع ہونا چاہئیے کہ جنہوں نے سپریم کورٹ پر حملے کی نیت سے ریفرنس آگے بڑھایا، وزیراعظم کے ریفرنس کا ایک مقصد ملک کے ہر آزاد جج کو خوف زدہ کرنا بھی تھا، عدلیہ پر حملے آمریت کی علامتیں ہیں،صدر عارف علوی نے عدلیہ پر غیرآئینی و غیرقانونی حملے میں وزیراعظم کے ایک ساتھی کا کردار ادا کیا، صدر عارف علوی اپنے منصب پر رہنے کا اخلاقی جواز کھوچکے ہیں، انہیں فوری مستعفی ہونا ہوگا، یہ واضح ہوچکا ہے کہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم نے بدنیتی سے عدلیہ کو دھمکایا، شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر ان کے خلاف آزادانہ تحقیقات کی جائیں، جسٹس فائز عیسی کے حوالے سے سارا معاملہ حکومت کے خلاف ایک فرد جرم ہے، جسٹس فائز عیسی کے حوالے سے سارا معاملہ حکومتی دباؤ کا ایک ہتھکنڈہ اور قانون کی بالادستی کے لئے ایک شرم کا مقام ہے، گو پی پی پی عدالتی قتل اور تین نسلوں سے عدلیہ کے نامناسب روئیے کا شکار رہی تاہم ہم آزاد اور مضبوط عدلیہ کے معاملے پر ہمیشہ کی طرح اٹل ہیں، پی پی پی ہمیشہ آئینی بالادستی کے ساتھ ہے اور ہم عدلیہ کے خلاف کسی سازش کا سہارا نہیں بن سکتے، فرد کی نہیں بلکہ قانون کی حاکمیت جمہوریت کا سب سے بڑا اصول ہے، پی پی پی ہمیشہ آزاد عدلیہ، آئینی بالادستی اور جمہوریت کے دفاع میں ہراول دستہ رہے گی، حکومت کو چاہئیے کہ جمہوری رویوں کا احترام کرے اور عدلیہ، حزب اختلاف، میڈیا، نقادوں اور اختلاف رائے کرنے والوں کو نشانہ بنانے کی اپنی مہم کو بند کرے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.