fbpx

حکومت نے پائلٹس لائسنس معاملے کو متنازعہ بنا کر پی آئی اے کو "کریش” کردیا۔ شیری رحمان

حکومت نے پائلٹس لائسنس معاملے کو متنازعہ بنا کر پی آئی اے کو کریش کردیا۔ شیری رحمان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے منافع بخش بین الاقوامی روٹس کو حریفوں کے حوالے کر دیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اب تباہی سرکار کہہ رہی کہ ملازمین ہی ادارے کا اصل مسئلہ ہیں۔ جبکہ اس سب کے پیچھے حکومت کی نااہلی اور ہوائی جہاز کی کمی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے دعوی کرکے گمراہ کیا کہ پی آئی اے کے نقصانات کو کم کیا گیا ہے۔

شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے پائلٹس لائسنس معاملے کو متنازعہ بنا کر پی آئی اے کو کریش کردیا۔ لائسنس گیٹ کے بعد ای یو کے دارالحکومت میں پی آئی اے گراؤنڈ ہوگیا۔ اثاثوں کو دوست احباب کی کمپنیوں کے ذریعہ بیرون ملک فروخت کرنے کے بعد اب پی آئی اے کو نئے کاروباری منصوبے کے ذریعے ناکارہ بنا رہے ہیں۔ پارلیمان نے ابھی تک پی آئی اے کا یہ انوکھا کاروباری منصوبہ نہیں دیکھا ہے۔پی آئی اے کی سیکیورٹی، لائسنس اور حادثے کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی میں سول ایوی ایشن اور وزیر میں کھلا اختلاف نظر آیا۔ اتنے بڑے واقعات کے بعد بھی کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا-نزلہ سب ملازمین پر

وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

پی آئی اے کے ہوٹل روزویلٹ کے مالکانہ حقوق کس کے پاس ہیں؟ اسمبلی میں اہم انکشاف