fbpx

آسمانی آفت یا انسانی غلطیاں: ہولناک گڑھے ترکی کے کھیتوں کو نگل رہے ہیں

استنبول :آسمانی آفت یا انسانی غلطیاں: ہولناک گڑھے ترکی کے کھیتوں کو نگل رہے ہیں ،اطلاعات کے مطابق رواں سال کے آغاز سے ہی ترکی کے زراعت پر مبنی صوبہ کونیا میں سیکڑوں نئے گڑھوں کے نمودار ہونے کی اطلاع ملی ہے،

یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پچھلے سال رجسٹرڈ ہونے والی تعداد سے دوگنا ہے، اور بظاہر یہ ابھی تک قدرتی کے بجائے ایک انسانی مسئلہ لگتا ہے۔

کونیا ترکی کے زرعی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے اور جہاں تک نگاہ جائے وہاں تک گندم کا وسیع سمندر دکھائی دیتا ہے-

کونیا ٹیکنیکل یونیورسٹی میں سنکول ریسرچ سنٹر کے سربراہ پروفیسر فتح اللہ اریک کا کہنا ہے کہ یوں تو پچھلے 10 سے 15 سالوں کے دوران ان گڑھوں کے نمودار ہونے واقعات دیکھے گئے ہیں لیکن ان کی وجہ کا پتہ لگانے کے لیے 1970 سے تحقیق شروع کرنے پڑے گی- یہ وہ دور تھا جب زیر زمین آبپاشی کے ایک بےقابو دور کا آغاز ہوا اور بدقسمتی یہ اب بھی جاری ہے-

سال 2018 میں، صوبہ کونیا میں 20 سے زیادہ گڑھے رجسٹرڈ ہوئے تھے، لیکن پچھلے دو سالوں میں جس شرح سے وہ نمودار ہوئے ہیں اس سے بہت سارے لوگ پریشان ہیں۔ بدقسمتی سے، جب تک زمینی پانی کے ذریعے آبپاشی کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا ، توقع کی جارہی ہے کہ یہ گڑھے پیدا ہوتے رہیں گے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.