fbpx

ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور انکی اہلیہ سمیت 13 افراد کی گزشتہ روز تامل ناڈو میں ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہوئی ہے، کل جمعہ کو حادثے میں ہلاک سب افراد کی آخری رسومات دہلی میں ہوں گی ،ڈیڈ باڈیز دہلی پہنچیں گی تو بھارتی وزیراعظم مودی لاشوں کو وصول کریں گے، آخری رسومات کی تقریب میں مودی بھی شریک ہوں گے،ہیلی کاپٹر حادثہ کیسے ہوا؟ بھارت کی وی وی آئی پی شخصیت ،بھارت کی افواج کا سربراہ کا ہیلی کیسے حادثے کا شکار ہو گیا ‘اس حوالہ سے بھارت میں بھی چہ میگوئیاں جاری ہیں، واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا جا چکا ہے اور ہیلی کا بلیک باکس بھی تحقیقاتی ٹیم کو مل چکا ہے تا ہم تحقیقات کے بعد سب کچھ سامنے آئے گا البتہ کچھ خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے

ہیلی حادثے کو لے کر چار سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جنکے جواب کی تلاش ہے تا ہم ابھی تک حکومت کی جانب سے صرف تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی ہیلی کے حادثے کی وجہ سے ہو سکتی ہے، بھارتی میڈیا پر ایک ویڈیو چلائی جا رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر دھند سے نکلتا دکھائی دیتا ہے اور پھر دھند میں ہی داخل ہو جاتا ہے، موسم کی خرابی کی وجہ سے کئی فضائی حادثات ہو چکے ہیں، ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ امیتابھ رنجن کا کہنا تھا کہ اکثر حادثات موسم کی خرابی کی وجہ سے ہوتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں ایسا ہوتا ہی ہے، جہاں حادثہ پیش آیا وہاں صبح کے وقت موسم صحیح نہیں تھا

ہیلی حادثہ کی دوسری وجہ ہیلی کاپٹر میں تکنیکی خرابی بھی ہو سکتی ہے، لیکن تکینیکی خرابی کے حوالہ سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تکنیکی خرابی تھی تو اس کو اڑانے سے پہلے چیک کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا جنرل بپن راوت کو جان بوجھ کر مارنے کی سازش کی گئی کہ اسے خراب ہیلی میں سفر کروا دیا گیا؟ ،ایم آئی 17 کو محفوظ ترین ہیلی تصور کیا جاتا ہے، بھارتی وزیراعظم مودی بھی اس ہیلی میں سفر کرتے ہیں اور یہ دو انجن والا ہیلی ہے تا کہ اگر ایک خراب ہو تو دوسرے سے لینڈنگ کی جا سکے

ہیلی حادثہ بارے تیسرا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ہیلی اپنے مقام سے دس کلو میٹر دور رہ گیا تھا کیا پائلٹ نے اونچائی کم کر دی تھی ؟ جس کی وجہ سے ہیلی حادثہ ہوا، تحقیقات میں اس بات کو دیکھا جائے کہ ہیلی کا جہاں حادثہ ہوا وہاں کتنی اونچائی پر پرواز پر تھا، اگر نچلی پرواز تھی تو پاور لائن سے ٹکر تونہیں لگ گئی، حادثے بارے چوتھا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ واقعہ میں کہیں پائلٹ کی کوئی غلطی تو نہیں؟ انسانی غلطی بھی ہو سکتی ہے، ہو سکتا ہے پائلٹ کچھ بھول گیا ، تا ہم ان سوالوں کے جوابات تحقیقات کے بعد ہی ملیں گے،

دوسری جانب ہیلی حادثہ کے ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے کو بتایا جب ہیلی گرا تو میں نے تین افراد کو دیکھا جن میں سے ایک زندہ تھا، زندہ فرد نے ہم سے پانی مانگا، وہ زخمی تھا، ہم نے پانی پلایا، بعد ازاں فوجی پہنچ گئے اور ہمیں وہاں سے ہٹا دیا گیا، بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ جس شخص کو میں نے پانی پلایا وہ بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت تھے

بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کا جسد خادی دہلی چھاونی میں لایا جائے گا اور جمعہ کو آخری رسومات ادا کی جائیں گی جسد خاکی ایک فوجی طیارے کے ذریعے دہلی پہنچایا جائے گا ، ہیلی کاپٹر کا فلائٹ ریکارڈ بلیک باکس تلاش کر لیا گیا ہے، بلیک باکس کے ملنے سے تحقیقات میں آسانی ہو گی، بلیک باکس کو ڈھونڈنے کے لئے تحقیقاتی ٹیم نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا، ٹیم کو جائے حادثہ سے تقریبا 300 میٹر سے ایک کلومیٹر کے علاقے کے درمیان سرچ آپریشن کرتے ہوئے بلیک باکس ملا،ونگ کمانڈر آر بھاردواج کی قیادت میں بھارتی فضائیہ کے افسران کی 25 رکنی خصوصی ٹیم نے بلیک باکس برآمد کیا،

بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے ،بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں، بہن راوت کی اہلیہ بھی ہلاک ہو گئی ہیں، جنرل بپن راوت پہلے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، حادثہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت تمام لیڈروں نے بھی اظہار افسوس کیا ہے ،بھارتی فضائیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے

دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں ہے، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت اپنی بیوی اور افسران کے ہمراہ محفوظ ترین ہیلی میں سوار تھے جس کے دو انجن ہیں، ایک انجن میں خرابی آنے کے بعد دوسرے انجن کے ساتھ محفوظ لینڈنگ کروائی جا سکتی ہے ، وی وی آئی پی شخصیات کے لئے اس ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوتا ہے،

واضح رہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد 31 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے جنہیں مودی سرکار نے بھارت کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا تھا جنرل بپن لکشمن سنگھ راوت ہندوستانی فوج کے فور اسٹار جنرل تھے وہ بھارت کے علاقے اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے، انڈین ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے تعلیم حاصل کی، انکے والد بھی فوجی تھے، بھارتی حکومت نے فوج کے حوالہ سے قوانین میں ترمیم کر کے بپن روات کو عہدہ دیا تھا ،اس ضمن میں عمر کی حد بڑھا کر 62 سے 65 برس کی گئی تھی اور آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنایا گیا تھا ،بپن راوت کے والد بھی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے راوت نے 1978 میں فوج کی 11ویں گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں کمیشن کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا جنرل راوت مسلسل کامیابی کی سیڑھی چڑھتے رہے اور مختلف اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے، انہیں یکم ستمبر 2016 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا تھا

انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز