fbpx

جماعت اسلامی کے تحت کراچی میں بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج و دھرنے شروع

جماعت اسلامی کے تحت شہر میں سخت گرمی میں بد ترین لوڈشیڈنگ ، بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ بندش، کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اور وفاقی حکومت اور نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کی مسلسل سر پرستی کے خلاف پر امن احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ پیر کے روز ضلع شرقی کے تحت جوہر موڑ گلستان جوہر میں احتجاجی دھرنا دیا گیا ۔
دھرنے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، ضلع شرقی کے قائم مقام امیر انجیئنر عزیز الدین ظفر اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔دھرنے میں ڈہرکی میں ٹرین کے ہونے والے خوفناک حادثے پر بھر گہرے دکھ اور افسوس اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اس کی تحقیقات کرائے ، ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے ، جاں بحق ہونے والوں کو معاوضہ اور زخمیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کرایا جائے ، اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹری کراچی و سابق رکن سندھ اسمبلی یونس بارائی ،سیکریٹری ضلع ڈاکٹر فواد ، نائب امیر نعیم اختر ، مرتضیٰ غوری ، پبلک ایڈ کمیٹی ضلع شرقی کے صدر سید محمد قطب ، نصر عثمانی اور دیگر بھی موجود تھے۔
دھرنے کے شرکاء نے کے الیکٹرک ، وفاقی حکومت اور نیپرا کی ملی بھگت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور پر جوش نعرے لگائے ۔ مظاہرین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی اُٹھائے ہوئے تھے ۔ احتجاجی مہم کے سلسلے میں اگلا دھرنا بدھ 9جون کو ضلع غربی کے تحت اورنگی ٹائون میں ہو گا ۔حافظ نعیم الرحمن نے جو ہر موڑ پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کی نا اہلی اور شہریوں کی بلا تعطل بجلی کی فراہمی میں ناکامی وفاقی حکومت کی نا اہلی و ناکامی ہے ۔
وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی ختم کریں ۔ عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہم نہ کرنے اور معاہدے کے مطابق پیدواری صلاحیت میں اضافہ نہ کرنے پر کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرے اور اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے ، ایک طرف لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی جا رہی دوسری طرف اوور بلنگ کی شکایات بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں ، کے الیکٹرک کے تیز میٹرز چیک کرنے والا کوئی غیر جانبدار ادارہ موجود نہیں ، عوام کی کوئی شنوائی نہیں ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وفاقی حکومت اور گورنر نے کے الیکٹرک کی مزید سرپرستی کرتے ہوئے 200 میگاواٹ بجلی فراہم کردی، گورنر سندھ بتائیں کہ کے الیکٹرک کے کتنے پلانٹ چل رہے ہیں ، تمام تر دعووں کے باوجود15مارچ سے شروع ہونے والا 900 میگاواٹ کا بن قاسم پلانٹ تھری اب تک کیوںشروع نہ ہوسکا، 1400 میگاواٹ بجلی NTDC کی طرف سے کس معاہدے کے تحت فراہم کی جارہی ہی کے الیکٹرک نے شہریوں کی رات کی نیند اور دن کا چین غارت کردیا ہے،شدید گرمی اور کرونا وباء کے دوران رات کے دوران بھی کراچی شہر کی بجلی بند کردی جاتی ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں دن بھر کئی کئی گھنٹے بجلی بندکردی جاتی ہے۔
۔کے الیکٹرک کے اصل ذمہ داران کا ہی نہیں پتا کہ کون اس کا مالک ہی ،ہم نہیں عدالتیں کہتی ہیں کہ کیا ملک دشمن عناصر اس کے کرتا دھرتا ہیں ،کے الیکٹرک ایک مافیا کا کردار ادا کررہی ہے ، تمام حکومتیں اس مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہیں،اس کا موجودہ مالک عارف نقوی وزیر اعظم کا دوست ہے ،پی ٹی آئی ،پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کراچی سے صرف لوٹنے میں مصروف ہیں