fbpx

جانی خیل معاملے پرکامیاب مذاکرات کے بعد وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی پریس کانفرنس

بنوں
جانی خیل معاملے پر کامیاب مذاکرات کے بعد وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش، وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد وزیر اور مشیر سائینس و ٹیکنالوجی ضیاءاللہ بنگش نے کمشنر آفس بنوں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ہماری پختون روایات کا حسن ہے گوکہ بعض عناصر نے صوبے کی روایات کے برعکس جانی خیل معاملے کو خراب کرنے کی کوشش کی جس کو عوام کے تعاون سے ناکام بنا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان قبائیلی عوام کا درد رکھتے ہیں اور انہی کی کوششوں سے ان علاقوں کو صوبے مئں ضم کرکے ان کو صوبے کے دیگر علاقوں کے ہم۔پلہ لا نے کے لیے تیز تر عمل درآمد منصوبے کے تحت اربوں روپے کے پراجیکٹ شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانی خیل کے نوجوانوں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس پر ہم بھی غمزدہ ہیں اور شہداء کے خاندانوں کے غم میں برابر شریک ہیں۔ کامران بنگش نے کہا کہ ہم جانی خیل کے مشران کے مشکور ہیں جنہوں نے وزیر اعلی محمود خان کی رہنمائی میں ہمارے جرگے کی پذیرائی کی۔

انیوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے علاقے کے مشران کی جانب سے تمام شرائط من و عن تسلیم کرکے فراخدلی کا ثبوت دیا، احتجاج کے دوران گرفتار افراد کو فی الفور رہا کیا جائے گا، کامران بنگش نے کہا کہ شہداء کے قتل کے واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیگی، جانی خیل قبیلے کے زیر حراست افراد کیلیۓ لائحہ عمل ترتیب دیا جاۓ گا۔ شہدا کیلیۓ شہید پیکیج دیا جاۓ گا۔ امن کی بحالی کیلئے روڈ میپ بنایا جاۓگا۔

جبکہ علاقے کیلئے ترقیاتی پیکیج دیا جاۓ گا۔ اسی طرح جانی خیل قبیلے کی ترقی کیلئے علاقہ مشران اور حکومتی میں ارکان رابطہ برقرار رکھا جاۓ گا۔صوبائی وزراء نے کہا کہا کہ تمام معاملات پر اتفاق رائے کے بعد احتجاج پرامن طور پر ختم کرنے کا اعلان کیاگیا،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.