جاپان میں 7.6 شدت کے زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری

زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت ٹوکیو میں بھی محسوس کیے گئے جو بالکل مخالف سمت پر موجود ہے
0
132
earthquake

ٹوکیو: وسطی جاپان میں 7.6 شدت کے زلزلے کے بعد کچھ ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کی گئی ہے-

باغی ٹی وی : جاپانی میڈیا کے مطابق سی آف جاپان (Sea of Japan) میں زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے جن میں سے ایک جھٹکے کی شدت 7.6 ریکارڈ کی گئی زلزلے کے جھٹکوں کے ساتھ سی آف جاپان کے مختلف ساحلی علاقوں میں ایک میٹر بڑی لہریں متحرک ہوئیں اور مزید بڑی لہروں کا امکان ہےزلزلے سے متاثرہ خطے میں ہزاروں گھر بجلی سے محروم ہوگئے جبکہ پروازوں اور ٹرین سروسز متاثر ہوئیں، تاہم ابھی کسی جانی نقصان کی رپورٹ سامنے نہیں آئی،زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت ٹوکیو میں بھی محسوس کیے گئے جو بالکل مخالف سمت پر موجود ہے۔
https://x.com/hioooomn/status/1741723364413300893?s=20
جاپانی محکمہ موسمیات کی جانب سے Ishikawa، Niigata اور Toyama نامی ساحلی علاقوں کے لیے سونامی وارننگ جاری کی گئی،کہا گیا کہ 3 میٹر بڑی لہریں متاثرہ حصوں سے ٹکرا سکتی ہیں جبکہ روس کی جانب سے بھی Vladivostok اور Nakhodka شہروں کے لیے سونامی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

بلیک ہولز کی تحقیق کیلئے بھارت کا سیٹلائیٹ کامیابی سےخلا میں روانہ

جاپانی میڈیا کے مطابق حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے جبکہ شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ زلزلے کے مزید جھٹکوں کے لیے تیار رہیں جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدا نے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کو زلزلے کے آفٹرشاکس کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ہم سونامی کے خطرے سے دوچار علاقوں میں رہنے والوں کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ جلد از جلد وہاں سے نکل جائیں۔

دوسری جانب جاپان کے جوہری پلانٹ کا انتظام سنبھالنے والے ادارے نے کہا ہے کہ سی آف جاپان کے ساتھ موجود جوہری تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا ہے زلزلے کے مرکز کے قریب موجود Hokuriku’s Shika جوہری پاور پلانٹ کے 2 ری ایکٹرز کو زلزلے سے قبل ہی معمول کے معائنے کے لیے بند کیا گیا تھا اور ان پر زلزلے سے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

عالمی عدالت انصاف فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کیلئے فوری طور پر فیصلہ …

واضح رہے کہ اس سے قبل جاپان میں 2011 میں زلزلے اور سونامی سے 20 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ فوکوشیما جوہری پلانٹ کو نقصان پہنچا تھا،ایک اور زلزلہ، جسے عظیم ہینشین زلزلہ کے نام سے جانا جاتا ہے، 1995 میں مغربی جاپان میں آیا، جس میں 6000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، خاص طور پر کوبے شہر میں،پیر کا زلزلہ یکم جنوری کی عام تعطیل کے دوران آیا جب لاکھوں جاپانی روایتی طور پر نئے سال کے موقع پر مندروں میں جاتے ہیں۔

کنازوا میں، ایک مشہور سیاحتی مقام اشیکاوا میں، تصاویر میں ایک گرے ہوئے ٹوری گیٹ کی باقیات کو ایک مزار کے داخلی دروازے پر بکھرے ہوئے دکھایا گیا ہے جب فکر مند عبادت گزار ان کی طرف دیکھ رہے تھے کنازوا کی رہائشی آیاکو ڈائیکائی نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکوں کے فوراً بعد وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ قریبی پرائمری اسکول میں منتقل ہوگئیں، انہوں نے کہا کہ کلاس رومز، سیڑھیاں، دالان اور جمنازیم سبھی خالی ہونے والوں سے بھرے ہوئے تھے۔

اسرائیلی کی بمباری ،مسجد اقصیٰ کے سابق امام شہید

ٹیلی فون پر رابطہ کرنے پر اس نے روئٹرز کو بتایا کہ میں نے عظیم ہینشین زلزلے کا بھی تجربہ کیا، اس لیے میں نے سوچا کہ وہاں سے نکلنا سب سے محفوظ ہوگا ہم نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ کب گھر واپس جانا ہے۔

Leave a reply