جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا کشمیر فریڈم مارچ کا اعلان

0
45

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے 4 اکتوبر کو بھمبر سے چکوٹھی تک فریڈم مارچ کا اعلان کیا ہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے چار اکتوبر کو بھمبر سے چکوٹھی تک فریڈم مارچ کا اعلان کیا ہے ،جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں سے یکجہتی کے لئے کشمیر فریڈم مارچ کریں گے، پاکستانی قوم کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مارچ میں شرکت کرے .

جموں‌ کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کشمیر ہیومن رائٹس والنٹیرز موومنٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار میرے خاوند یاسین ملک نے بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھایا، ہاتھ میں بندوق ہو یا قلم آپ کی منزل ایک ہوتی ہے،

مشعال ملک نے کہاکہ آگرہ کے مینٹل اسپتال میں یاسین ملک کو رکھا گیا، بہت عزتیں لوٹی جا رہی ہیں اور گھر بھی جلائے جا رہے ہیں، یہ پوری نہتی قوم ہندوستان کی دہشتگرد فوج کا مقابلہ کر رہی ہے، پاکستان تب ہی بچ سکتا ہے جب آپ کشمیریوں کے لئے جاگیں گے، بھارت کے آٹھ حصوں میں بھی آرٹیکل ہٹانے کی تحریک چل رہی ہے، ہندوستان کو لالچ ہے ان کو کشمیر کی زمین چاہئیے انہیں کشمیریوں سے کوئی غرض نہیں، آپ کا دشمن اتنا بزدل اور بے غیرت ہے جو نہتے لوگوں پر ظلم کر رہا ہے، مذہب کے نام پر کسی کو قتل کرنا یا حقوق چھیننا کوئی انسانیت نہیں،

یاسین ملک کی حالت تشویشناک، مشعال ملک کی دنیا کے سامنے علاج کے لئے اپیل

 

مودی کیا جانے کہ پارٹی تو ابھی شروع ہوئی، اب مجاہدین کو کشمیر جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، بھارت میں کھلبلی مچ گئی

 

حریت رہنما یاسین ملک کی کمسن بیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ ہونے پر اپنے پیغام میں دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ کشمیری 30 دن سے کرفیو میں ہیں، انہیں دنیا کی مدد کی ضرورت ہے، عالمی دنیا ان کی مدد کو آگے آئے،

یاسین ملک کی بیٹی کا کہنا تھا کہ کشمیری مر رہے ہیں،جیلوں میں بند ہیں، گھروں میں محصور ہیں، کب ان کی مدد کی جائے گی، کشمیریوں کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں، پینے کے لئے پانی نہیں، زخمیوں و مریضوں کے لئے ادویات نہیں، بچے سکول نہیں جا سکتے، بھارت نے تمام تعلیمی ادارے بند کر رکھے ہیں،

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کیے ہوئے کرفیو کو آج مسلسل 31واں دن ہے۔انسانی بحران شدید تر ہو چکا ہے ۔ مقبوضہ مقبوضہ کا رابطہ بیرونی دنیا سے تقریباً ایک ماہ سے مسلسل کٹا ہوا ہے۔مقبوضہ وادی میں 5اگست سے انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہے۔ مقامی اخبارات اپنے آن لائن ایڈیشن اپڈیٹ نہیں کرپا رہے جبکہ بیشتر اخبارات کرفیو کی وجہ سے پرنٹ نہیں ہوسکے۔

کشمیر میں لاشیں گر رہی ہیں،نہیں جانتی سسرال والے کس حال میں ہیں، مشعال ملک

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ بیرونی دنیا میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں کشمیری محاصرے کی کیفیت میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاﺅنی کامنظر پیش کر رہا ہے۔بھارتی فوج نے دس ہزار سے زائد کشمیر یوں کو گرفتار یا نظر بند کیا ہے۔جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں میں قیدیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ بھارتی حکام کشمیری قیدیوں بھارت کی دیگر جیلوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

دریں اثنا مقبوضہ وادی میں ادویات کی شدید قلت ہو چکی ہے ۔کشمیری دہلی سے ادویات خریدکر لا رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں اشیائے خوردونوش کی بھی قلت ہو گئی ہے جبکہ بچوں کے لیے خوراک کی بھی کمی ہو گئی ہے۔

بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف جلسوں کو مانیٹر کرنے کے لیے ڈرون کیمرے استعمال کر رہے ہیں۔

Leave a reply