fbpx

جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں مارگلہ ہلز کرشنگ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی گئی

وکیل قلب حسن نے کہا کہ بفر زون نیشنل پارک سے ایک ہزارگز کے فاصلے پر ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا جہاں کرشنگ ہو رہی ہے وہ مارگلہ ہلز کی زمین نہیں؟قلب حسن نے عدالت میں جواب دیا کہ جی نہیں وہ مارگلہ ہلز کی زمین ہے، نقشے سے ظاہر ہے کہ نیشنل پارک کون سا ہے اور بفر زون کون سا ہے،

چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ 1996 میں سپریم کورٹ نے ایسی ہی ایک درخواست مسترد کی تھی، مارگلہ ہلز سے سرنگ بنانے کے معاملے پر بھی عدالت نے اجازت نہیں دی تھی، یہ جو نقشے عدالت میں پیش کیے گئے ہیں یہ سب جعلی اور دو نمبر ہیں،یہ سب لوگ آپ میں ملے ہوئے ہیں،

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موٹر وے پر کلر کہار میں پہاڑ ختم کر دیئے گئے ہیں،جو رہ گئے وہ اس وجہ سے ہیں کہ ہم نے زور مارا ہوا ہے،مری کا پہاڑ بھی غائب کر دیا گیا ہے،

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مارگلہ ہلز میں مائننگ پر پابندی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے لگائی گئی ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نیشنل پارک ملک بھر میں ہیں یہ صرف مارگلہ ہلز کی بات نہیں ہے، ہم یہ پارکس کسی صورت برباد نہیں ہونے دیں گے

وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

وکیل قلب حسن نے کہا کہ حد بندی ہونے کے بعد مائننگ کی اجازت دی گئی تھی، سماعت کے بعد عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ تک کے لئے ملتوی کر دی

مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ