گزشتہ سالوں میں گندے پانی کی بیماریوں سے 5 سو کے قریب سینٹری ورکرز کی موت ہوئی

0
39
seworker

سندھ ہائیکورٹ ،سینٹری ورکرز کو سیفٹی کٹ فراہم نہ کرنے کا معاملہ ،سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ودیگر حکام عدالت میں پیش ہو گئے،

عدالت کی جانب سے سیکرٹری بلدیات کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی گئی ،عدالت نے ہر پندرہ روز بعد پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ اگر رپورٹ اسی طرح غیر تسلی بخش رہیں تو سیکریٹری بلدیات کو خود پیش ہونا ہوگا سماعت 14 جون تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے ،،سیکرٹری نےعدالت میں جواب دیا کہ ہماری جانب سے سینیٹری ورکرز کو کلوز اور دیگر چیزیں مہیا کی گئی ہیں سینیٹری ورکرز کو سیفٹی کے حوالے سے وقتاً فوقتاً آگاہی بھی دی جاتی ہے، وکیل درخواست گزار مظہر علی شیخ نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے دوران گندے پانی کی بیماریوں سے 5 سو کے قریب سینٹری ورکرز ہلاک ہوئے، 2017 میں بھی گٹر میں گیس بھر جانے کی وجہ سے سینٹری ورکرز کی ہلاکت ہوئی تھی،انسانی فضلے کے ساتھ سوئیاں، بلیڈ اور شیشے کے ٹکڑے بھی ہوتے ہیں جو سینٹری ورکرز کو نقصان پہنچاتے ہیں،

وکیل درخواست گزار مظہر علی شیخ نے کہا کہ سینیٹری ورکرز کو انسان نہیں سمجھا جاتا، صفائی کرنے والے عملے کو نظر انداز کیا جاتا ہے،سینٹری ورکرز کو نہ ماسک فراہم کیے جاتے ہیں نہ ہی حفاظتی لباس و آکسیجن سلنڈر،سینٹری ورکرز کو اس کام کے حوالے سے کوئی خصوصی تربیت بھی فرام نہیں کی جاتی ہے ، دنیا بھر میں سینٹری ورکرز کو حفاظتی سوٹ، آڈیو ویڈیو، میرر اسکرین آکسیجن سلینڈر و دیگر آلات فراہم کیے جاتے ہیں،پاکستان میں سینٹری ورکرز کو ایسی کوئی سہولیات فراہم نہیں کی جاتی،سینٹری ورکرز کو خصوصی حفاظتی لباس فراہم کیا جائے،دیگر ممالک کی طرح سینٹری ورکرز کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے

دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار

لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ

Leave a reply