fbpx

کیا ڈولفن میں بھی خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے منفی جذبات رکھتی ہیں؟

آسٹریلیا: مطلب پرستی، بغض اور خودغرضی صرف ہم انسانوں تک ہی محدود نہیں پہلے یہ منفی جذبات، پرائمیٹس میں دریافت ہوئےاور اب سمندر کی ہمیشہ ہنستی مسکراتی ذہین ترین مخلوق ڈولفن میں بھی اس رویے کا انکشاف ہوا ہے۔

باغی ٹی وی : تحقیقی ہفت روزہ جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق مغربی آسٹریلیا میں شارک بے کے مقام پر سائنسدانوں نے بعض تجربات کے بعد کہا ہے کہ یہ سمندری ممالیہ بھی آپس میں بغض و عداوت رکھتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق بوٹل نوز ڈولفن کے نر اپنے انہی ’ساتھیوں‘ کی پکار پر توجہ دیتے ہیں جو ماضی میں انہیں بچانے یا مدد کے لئے آئے ہوں جبکہ مدد نہ کرنے والے ڈولفن گروہ کی پکار پر وہ کان نہیں دھرتے اور نظرانداز کردیتےہیں۔

برسٹل یونیوررسٹی نے اسے’اتحادی نیٹ ورک‘ قرار دیا ہے جو نر ڈولفن کے درمیان قائم ہوتا ہے عین سماجی رویے کی طرح ڈولفن کے غول ملکر شکار کرتے ہیں یا پھر مل کر ایک دوسرے کی شکاریوں سے حفاظت کرتے ہیں۔

تحقیق کی سربراہ اسٹیفنی کنگ کہتی ہیں کہ ڈولفن سماجی جانوروں کی طرح اپنی ہم انواع میں تعلقات کی درجہ بندی کرتے ہیں عین اسی طرح ہم بھی اپنے ہم جنسوں کی ایسے ہی درجہ بندی کرتے رہتے ہیں ’انسانوں سے ہٹ کر بوٹل نوز ڈولفن میں اتحاد اور تعاون کا بہت پیچیدہ نظام ہوا ہے جسے ہم سمجھنا چاہتے تھے-

اسٹیفنی کنگ نے مزید بتایا کہ ڈولفن یاد رکھتی ہیں کہ کس نے ان کی مدد کی تھی اور اس کے جواب میں انہیں کس کے کام آنا ہے پھر اپنی مخصوص سیٹی نما پکار سے یہ ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں کیونکہ ہر ڈولفن کی مخصوص آواز زندگی بھر یکساں رہتی ہیں اسی لیے مشکل میں ڈولفن کا ایک گروہ دوسروں کو بلاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.