لاء افسران کی تبدیلی کیخلاف کیس،سماعت ملتوی

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی
0
34
supreme court01

سپریم کورٹ ،پنجاب نگران حکومت کی جانب سے لاء افسران کی تبدیلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

وکیل پنجاب حکومت نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر تمام اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈووکیٹ جنرلز کوکیس بارے آگاہ کر دیا گیا تھا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ اسی نوعیت کا کیس پشاور میں جسٹس مسرت ہلالی سن چکی ہیں، پشاور ہائیکورٹ میں لارجر بنچ دینے کا حکم دیا گیا تھا

جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا کسی کو میری بنچ میں موجودگی پر اعتراض ہے، فریقین وکلاء نے کہا کہ فریقین میں سے کسی بھی وکیل کو جسٹس مسرت ہلالی کی بنچ میں شامل ہونے پر اعتراض نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرلنے استدعا کی کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے دیا جائے، سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام حکومتوں پر لاگو ہوگا، تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جائیں، وکیل درخواست گزار عابد زبیری نے کہا کہ عدالت کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کر دے، دیگر صوبوں اور وفاق میں اگست میں نگران حکومتیں بننے کو ہیں،دیگر صوبوں میں نگران حکومتوں بننے کے انتظار میں کیس تاخیر کا شکار ہوگا،

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس نگران حکومتوں کے اختیارات کا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون طے کرے گا، دیگر صوبوں کو سننا ضروری ہے، سپریم کورٹ نے تمام ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے ،عدالت نے رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے زیر التوا کیس بارے رپورٹ طلب کر لی کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی تین رکنی بنچ کا حصہ ہیں

ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

Leave a reply