fbpx

میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مدرسہ سیکنڈل کے مفتی عزیز الرحمان کو تاحال گرفتار نہ کیا جا سکا

مفتی عزیز الرحمان نے طالب علم سے زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا، اس وضاحتی بیان میں مفتی عزیز الرحمان کا کہنا تھا کہ اس لڑکے نے‌ آزادانہ ویڈیو خود بنائی ہے اس پر کوئی جبر نہیں ہے، اگر جبر ہوا ہوتا تو اسوقت کیوں نہ چیختا ، آج مجھے مدرسے سے نکلوانے کے لئے ویڈیو سامنے لائی گئی، یہ سردیوں کی ویڈیو ہے، اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اسداللہ فاروق نے مدرسہ سے اخراج کا لیٹر جاری کر دیا

وضاحتی ویڈیو میں مفتی عزیز الرحمان جرم کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لڑکے پر کوئی دباؤ نہیں تھا ویڈیو اس نے خود بنائی، تو دوسری جانب اسی ویڈیو میں مفتی عزیز الرحمان نے قرآن پر حلف بھی دے دیا کہ ویڈیو جھوٹ ہے،حالانکہ اسی میں خود تسلیم کر رہے ہیں کہ جو ویڈیو بنائی گئی وہ سردیوں کی ہے اور صحیح ہے اور لڑکے نے خود بنائی

پاکستانی معاشرے میں علماء کرام مفتیان عظام کو عزت کا جو درجہ دیا جاتا ہے شاید ہی وہ کسی کو دیا جاتا ہے لیکن اس ایک ویڈیو کے آنے کے بعد مذہبی طبقہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مفتی عزیز الرحمان جو مدرسے کے طالب علم سے تین سال سے مسلسل جنسی عمل کر رہے تھے اور ویڈیو میں اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو دو ڈھائی سال پرانی ہے، اس کے باوجود ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ مجھے مدرسے سے نکلوانے کے لئے ویڈیو سامنے لائی گئی، اگر مفتی عزیزالرحمان کی یہ بات صحیح بھی ہے تو بالکل درست ہے کیونکہ ایسے افراد جن کی جگہ جیل ہے انکو مدرسے کی جگہ جیل میں ہونا چاہئے، تین سال تک طالب علم سے زیادتی، پھر اسکو امتحان پاس کروانے کے لئے بلیک میلنگ، عمر ستر برس، اور پھر حرکتیں ایسی کہ مفتی کے پوتے بھی سوچتے ہوں گے کہ ہمارا دادا کیا کام کر رہے ہیں،جب ویڈیو سامنے آئی تو گناہ کا اقرار کرنے کی بجائے پاکدامنی کی صفائیاں دلوانے لگے ، مدرسے کی انتظامیہ جو طالب علم کی بات نہیں سن رہی تھی ،اسکو جھوٹا اور مفتی عزیزالرحمان کو پاکدامن قرار دے رہی تھی لیکن ویڈیو آنے کے بعد مدرسہ انتظامیہ نے اخراج کا نوٹس جاری کیا

مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل اتنا بڑا اسکینڈل ہے کہ مبینہ طور پر مدرسہ کی دیگر انتظامیہ بھی اس میں ملوث ہے، طالب علم نے جب انتظامیہ کو بتایا تھا تو اس پر تحقیقات کیوں نہیں کی گئی تھیں، مفتی کی سفید داڑھی دیکھ کر پاکدامن کیوں قرار دے دیا گیا تھا، کیوں کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ مفتی صاحب مفتے بنے ہیں، مدرسہ انتظامیہ نے کیوں نوٹس نہیں لیا، جب ویڈیو بنی تو صرف مفتی عزیزالرحمان کو اخراج کا کیوں کہا گیا انکے خلاف کاروائی کیوں نہ کی گئی، مدرسہ انتظامیہ نے‌ مفتی کو مدرسہ سے نکال کر قانونی کاروائی سے بچایا ہے، اسکا دوسرے لفظوں میں یہی مطلب سامنے آ سکتا ہے کہ مدرسہ انتظامیہ مفتی عزیزالرحمان کے گناہ کو نہ صرف چھپا رہی تھی بلکہ اب اسے قانونی طور پر بھی بچا رہی ہے .

مفتی عزیز الرحمان پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، پولیس نے انکی گرفتاری کے لئے گزشتہ روز چھاپہ مارا لیکن وہ فرار ہو گئے، اگر مفتی عزیز الرحمان پاکدامن تھے تو وہ فرار کیوں ہو گئے، فرار ہمیشہ مجرم ہی ہوتے ہیں، پاکدامن ہوتے تو وہ گرفتاری دیتے، کیس چلتا، حقائق سامنے آ جاتے لیکن ایک وضاحتی ویڈیو میں اعتراف جرم کے بعد وہ فرار ہو گئے اور ابھی تک پولیس کے ہتھے نہیں چڑھے

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے مفتی عزیز الرحمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے مفتی عزیز الرحمان کو گرفتار کیا جائے اور سر رام پھانسی دی جائے

واضح رہے کہ جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور کے استاد مفتی عزیز الرحمن کی اپنے شاگرد صابر شاہ سے بدفعلی کی وڈیو منظر عام پر آئی ہے. گزشتہ 3 سال سے مفتی عزیز اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کررہا ہے. ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد انتظامیہ نے مفتی عزیز سے لاتعلقی کرتے ہوئے مدرسہ سے فارغ کردیا ہے. پولیس نے متاثرہ طالب علم کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے. تاحال مفتی عزیز کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے.

پاکستان کے مدارس میں زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے. ان واقعات سے مدارس کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوگئی ہے. ہر آنے والے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد پریشان ہے ،

 پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

مذہبی رہنماوں کا ردعمل

طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

ایک رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں پاکستان میں 89 بدفعلی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں. ان میں 66 واقعات بچوں کے ساتھ بدفعلی کے ہیں. جن ان کی عمریں 11 سے 15 سال تک کی ہیں.
اسی طرح ایک ایک واقعہ رواں برس ماہ اپریل میں پیش آیا. ایک امام مسجد 3 سال سے اپنے شاگرد کو زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا اور اپنے ساتھی کی مدد سے اس کی ویڈیو بھی بناتا تھا. پولیس نے امام مسجد اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا. بعد میں امام مسجد کے ساتھ مدعی پارٹی نے صلح کر لی اور تین سال تک بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے درندے کو ایک بار پھر آزاد کر دیا گیا

اسی طرح مانسہرہ میں مدرسے کے استاد نے 10 سالہ شاگرد سے 100 بار زیادتی کا واقعہ سامنے آیا. اسی طرح پاکپتن میں مدرسہ کے استاد نے 12 سال کے شاگرد سے زیادتی کی تھی. زیادہ تر ایسے واقعات بدنامی کے ڈر سے رپورٹ نہیں کرواتے ، زیادتی کیس میں عدالتیں ملزمان کو سزائیں بھی سنا چکی ہیں،2018 میں زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا. ملزم کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا ہے. 2020 میں لاہور موٹروے پر زیادتی کا کیس سامنے آیا. ملزمان کو گرفتار کر کے سزا سنائی گئی. تا ہم ایسے واقعات کی روک تھام ابھی تک نہ ہو سکی