مارچ میں شدید گرمی اور جون میں کم درجہ حرارت موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں،ماہرین

0
77

پاکستان میں عموماً گرم ترین مہینےجون میں گرتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ شمالی علاقوں میں برفباری بھی ہورہی ہے۔ ماہرین نے مارچ میں شدید گرمی اور جون میں کم درجہ حرارت کو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قراردیا ہے-

باغی ٹی وی : بی بی سی اردو کے مطابق محکمہ ماحولیات پاکستان کےسابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر قمر الزمان نے برفباری کو موسمی تبدیلی اور انتہائی شدید موسمی صورتحال قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ سب ثابت کر رہا ہے کہ پاکستان اس وقت شدید موسمی تبدیلیوں کی زد میں آ چکا ہے۔

ملک میں موسم کی صورتحال

محکمہ موسمیات سندھ کے ماہر ڈاکٹر سردار سرفراز نے کہا ہے کہ پاکستان میں مغربی اور بحیرہ عرب سے اٹھنے والا سلسلہ بہت شدید تھا مغربی ہواؤں کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے درجہ حرارت بھی گرا ہے اس درجہ حرارت کے اثرات جب سطح سمندر سے 8 ہزار میڑ سے اوپر والے علاقے پر پڑے تو کم ہوتے ہوئے درجہ حرارت نے بارش کو برف باری میں تبدیل کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں ان بارشوں نے موسم کی شدت کو کم کیا ہے اورپانی کی کمی کا مسئلہ حل کیا ہے وہیں ان موسمیاتی تبدیلوں کے باعث کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں اگر معمول کا گرم موسم نہیں ہوگا تو گرمیوں کے موسم میں ہونے والی فصلوں اور پھلوں کو نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح انسانی صحت کے بھی کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی

واضح رہےکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جون کے مہینے میں ہونے والی برفباری کے باعث گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع بابو سر ٹاپ کا راستہ ایک روز بند رہا۔بابو سرٹاپ کا درجہ حرارت منفی 4 ریکارڈ کیا گیا ہے چلاس کے قریب گیٹی داس میں بھی گزشتہ 2 روز سےشدید برفباری کاسلسلہ جاری ہے جس کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ ایسی ہی اطلاعات وادی نیلم سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں کچھ مقامات پر بھی برفباری ہوئی ہے۔

کے الیکٹرک کی بجلی 11 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست

Leave a reply