fbpx

کرونا وائرس،بھارت میں اتنے مریض ہو جائیں گے کہ لاشیں بلڈوزر سے گڑھے میں ڈالنا پڑیں گی

بھارت میں اتنے مریض ہو جائیں گے کہ لاشیں بلڈوزر سے گڑھے میں ڈالنا پڑیں گی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے معروف عالم دین مولانا یونس پالنپوری نے علماء کرام اور ڈاکٹرز کے ساتھ میٹنگ کے بعد بھارت کے مفتیان کرام کو پیغام بھجواتے ہوئے کہا کہ کل ہماری ایک میٹنگ تھی جماعہ نظامیہ میں ،بھارت کے ٹاپ کے 8 ڈاکٹر تھے اور مفتیان کرام بھی، وہان‌ کو اعدادوشمار اور حالات سامنے آئے وہ خؤفناک اور تشویشناک تھے، کہا جا رہا ہے کہ جو پہلی جنگ عظیم تھی ،نیو کلیر بم استعمال کیا گیا تھا اس سے جتنے لوگ مارے گئے تھے اس سے زیادہ لوگ اس بیماری کا شکار ہوں گے

مولانا یونس پالنپوری کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں کرونا وائرس کے بیماری میں تجزیہ ہے کہ ابھی اس کے پھیلنے کی رفتار 2.5 فیصد ہے، چین نے اس کو کنٹرول کیا، اٹلی اورایران میں اسکی رفتار چار سے چھ فیصد ہے، ابھی بھارت میں اس نے ابھی تک رفتار نہیں پکڑی، لیکن اگر رفتار پکڑتی ہے تو کم سے کم دو کروڑ بھارتی لقمہ اجل بن جائیں گے

مولانا یونس پالنپوری کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں جو ہو رہا ہے لاشوں کو بلڈوزر سے گڑھوں میں ڈالا جا رہا ہے بھارت میں بھی یہی کیفیت بن سکتی ہے، اگر مسجدوں میں لوگوں کو جانے سے نہیں روکیں گے جس طرح جمعہ اور دیگر اجتماعات ہو رہے ہیں تو کافی نقصان ہو گا، حیدر آباد میں جن مریضوں کو نگرانی میں رکھا گیا ہے اس میں 80 فیصد مسلمان ہیں،اور بیس فیصد دوسری کمیونٹی کے لوگ ہیں، فرقہ واریت کے حوالہ سے بھی ڈسکشن شروع ہو چکی ہے،چند دنوں میں پارلیمنٹ میں یہ بات پہنچ جائے گی کہ مسلمانوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے اس وبا نے شدت اختیار کی، اس طرح بہت بڑا سماجی بائیکاٹ مسلمانوں کا شروع ہو جائے گا،اور پورا میڈیا، سیاست مسلمانوں کے خلاف ہوں گے،

مولانا یونس پالنپوری کا مزید کہنا تھا کہ پوری کوشش کر ڈالیں کہ مسلمان جماعت اور جمعہ سے رک جائیں ، گھروں میں نماز پڑھیں، جمعہ کے لئے تین سے چار افراد کے ساتھ جماعت کروائی جائے، پھر مسجد کو تالے لگا دیئے جائیں، عملی طور پر کرونا وائرس کو روکنے کے لئے یہ کرنا ضروری ہو گا.

ھارت میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 90 مریض سامنے آ گئے جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 606 ہو گئی

بھارت میں کرونا وائرس سے 10 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، 43 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں، بھارت میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض بہار، کرناٹک، گجرات، پنجاب، دہلی، مغربی بنگال، ہماچل پردیش،مہاراشٹرا میں ہیں،

بھارتی ریاست کرناٹک میں کرونا وائیرس کے مریضوں کی تعداد 44 ہو گئی ۔ داونگیرہ میں رکن پارلیمینٹ جی ایم سدیشور کی بیٹی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ رکن پارلیمینٹ کی بیٹی اپنے دو بچوں کے ہمراہ نیو یارک سے دہلی پہنچی تھی اور پھر دہلی سے بذرعہ طیارہ بنگلور پہنچی ، بنگلور ایرپورٹ سے وہ 21 مارچ کو ایک کار کے ذریعہ اپنے والد کے ساتھ اپنے مکان بھیما سندرا بنگلور پہنچی تھیں ۔

بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

بھارت کی انتہائی اہم ترین شخصیت کرونا سے خوفزدہ، کروائے گی ٹیسٹ

بھارت میں 25 مارچ سے لاک ڈاؤن نافذ ہوچکا ہے لیکن دہلی میں 24 مارچ سے کرفیو نافذ ہوا ہے۔ دہلی پولیس نے بدھ کو مکمل لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سختی دکھاتے ہوئے 5103 لوگوں کو حراست میں لیکر 956 گاڑیوں کو ضبط کیا اور آئی دفعہ آئی پی سی 188 کے تحت 183ایف آئی آر درج کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ضروری سامان کی آمدورفت کے لئے 6141پاس جاری کئے گئے ہیں