fbpx

مودی کا جہاز خریدنے کیلیے پیسے ہیں لیکن کسانوں کو دینے کیلئے نہیں،پرینکا گاندھی مودی پر برس پڑیں

مودی کا جہاز خریدنے کیلیے پیسے ہیں لیکن کسانوں کو دینے کیلئے نہیں،پرینکا گاندھی مودی پر برس پڑیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس اترپردیش کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کسانوں کے احتجاج پر مودی سرکار پر کڑی تنقید کی ہے

پرینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ مودی حکومت بلا جواز پیسہ خرچ کر رہی ہے لیکن اترپردیش کے کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے لئے اس کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ حکومت سرمایہ داروں کے بارے میں خوب سوچتی ہے اور ان کو فائدہ پہنچانے کے منصوبے بناتی ہے لیکن کسانوں کے بارے میں غور کرنے کے لئے اسے فرصت نہیں ہے اس لئے کسانوں کے بقایہ کی ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی ہے۔

پرینکا گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کے پاس 20 ہزار کروڑ کا نیا پارلیمنٹ کوریڈور بنانے، 16 ہزار کروڑ کا مودی کے لئے اسپیشل جہاز خریدنے کے لئے پیسہ ہے لیکن اترپردیش کے کسانوں کو 14 ہزار کروڑ کی ادائیگی کرنے کے لئے پیسہ نہیں ہے۔ 2017 سے گنے کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ یہ حکومت صرف ارب پتیوں کے بارے میں سوچتی ہے۔

پرینکا گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر گاؤں کنکشن نام سے ایک پوسٹ بھی شیئر کی ہے جس میں لکھا ہے کہ کسانوں کا 12994 کروڑ روپے کا بقایا ہے جن میں سب سے زیادہ اتر پردیش میں 10 ہزار کروڑ روپے کا بقایا ہے۔

بھارتی کسان نے کس پارٹی کی ٹی شرٹ پہن کر خودکشی کی؟

بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

مطالبات نہ مانے گئے تو بھارت بند کردیں گے،احتجاج کرنیوالے کسانوں کا بڑا اعلان

مودی سرکار کی طرف سے پارلیمنٹ میں منظور کیے جانے والے تین زرعی قوانین کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں کسان دہلی کی سرحدوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تحریک کو پنجاب اور ہریانہ کے بعد اتر پردیش کے کسانوں کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور متعدد ریاستوں کے کسانوں نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ کسانوں سے حکومت کی کئی دور کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔ اب گاؤں گاؤں میں احتجاج کی آگ پھیل رہی ہے اور لوگوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں کسان دہلی جا کر احتجاج میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بھارت بند کا اعلان، کسانوں کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت مل گئی