ورلڈ ہیڈر ایڈ

مولانا فضل الرحمان اپنا انداز بیان تبدیل کریں ورنہ، طاہر اشرفی کی وارننگ

مولانا فضل الرحمان اپنا انداز بیان تبدیل کریں ورنہ، طاہر اشرفی کی وارننگ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان متحدہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی نے میڈیا سے گفتگو کرتے پوئے کہا ہے کہ حکومت اور فضل الرحمان مذاکرات سے مسائل حل کریں۔ دھاندلی کا الزام لگانے والے الیکشن کمیشن سے رجوع کریں، دھاندلی کی شکایات کے ازالے کے لیے اصلاحات کی جائیں۔

بچوں پر جنسی و جسمانی تشدد کے خلاف طاہر اشرفی میدان میں آ گئے ، بڑا اعلان کر دیا

آزادی مارچ ، کس ملک کے سفارتخانے نے مولانا سے ملنے سے کیا انکار

علامہ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری پر غلط فہمیاں نہ پھیلائی جائیں جبکہ محمود خان اچکزئی کو جے یو آئی امیدوار نے ہرایا اس میں کیا دھاندلی ہوئی تھی۔ مولانا فضل الرحمان اپنا انداز بیان تبدیل کریں، مذہب اور صحت کے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔

آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

مذاکرات کرنے ہیں تو استعفیٰ لاؤ، استعفیٰ کا بھی مطالبہ اور اداروں کی منتیں بھی، مولانا کا خطاب

طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ وطن عزیز پاکستان کے مسلمان آئین کی اسلامی دفعات عقیدہ ختم نبوت اور مدارس و مساجد کےمحافظ ہیں ۔بین المذاہب مکالمہ اور بین المالک ہم آہنگی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے سکھ برادری کے لیے حکومت کی طرف سے سہولتیں پیدا کرنا درست سمت قدم ہے ۔ملک بھر میں ربیع الاول، ربیع الثانی میں رحمت للعالمین ؐ کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں

آزادی مارچ کے ڈی چوک جانے پر اعتراض کیوں؟ مولانا فضل الرحمان رو پڑے

ہجوم آگے بڑھا توتمہارے کنٹینرزکوماچس کی ڈبیا کیطرح اٹھا کرپھینک دیگا،مولانا کی دھمکی

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد میں پشاور موڑ کے قریب جمع ہیں، حکومت اور آزادی مارچ کے درمیان مذاکرات کے بعد جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے مطابق آزادی مارچ کے شرکا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ مقام تک ہی محدود رہیں گے۔

 

مولانا فضل الرحمان کو 9 روز اسلام آباد میں ہو گئے،الیکشن کمیشن آف پاکستان مولانا کو دھاندلی کے الزامات پر جواب دے چکا ہے، پاک فوج کے ترجمان بھی آزادی مارچ پر اپنا موقف سامنے لا چکے ہیں، حکومت کی طرف سے بھی درمیانی راستہ کی تلاش ہے اور اب حکومت سے زیادہ مولانا کو درمیانی راستہ کی تلاش ہے، بلاول اور ن لیگ نے مولانا کو بند گلی میں پھنسا دیا، اگر استعفیٰ کا مطالبہ سامنے رکھ کر مولانا چار برس بھی بیٹھے رہیں تو وہ عمران خان انہیں دینے کو تیار نہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.