مولانا صاحب چوروں کی آزادی کی بجائے کشمیریوں کی آزادی کے لئے مارچ کریں، فردوس عاشق

0
57

وزیراعظم عمران خان کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مولانا صاحب مارچ کشمیریوں کی آزادی کے لئے کریں، چوروں کی آزادی کے لیے نہیں؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب! موجودہ حکومت اور پارلیمان اس لیے ناجائز اور حرام ہے کیونکہ اس میں آپ موجود نہیں؟ آج آپ کی جمہوریت پسندی کہاں ہے؟آج کس منہ سے پارلیمان کو گرانے کے دعوے فرما رہے ہیں؟ آج آپ کے جمہوریت کے لئے اصول کہاں ہیں؟

مولانا کے آزادی مارچ کو روکنے کیلیے سعودی عرب سے مدد مانگی گئی؟ حقیقت سامنے آ گئی

ایک اور ٹویٹ میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا صاحب! دوسروں کو مشورہ دینے کی بجائے اپنے بیٹے سے کہیں کہ استعفی دے دیں۔اپنے فرزند کے لیے پارلیمان بھی حلال؟ اس کی تنخواہ بھی حلال؟ مراعات بھی حلال؟ اس کی نشست بھی حلال؟

مولانا کا آزادی مارچ،ملک کے بڑے سجادہ نشین نے کی حمایت

آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمان نے تاریخ کا اعلان کر دیا،کہا روکا تو پاکستان جام کر دیں گے

بلاول نے دیا مولانا فضل الرحمان کو دھوکہ

مولانا فضل الرحمان سے پہلے دے گی پیپلز پارٹی دھرنا.اعلان کر دیا

آزادی مارچ سے قبل گرفتاریاں ہوئیں تو لائحہ عمل کیا ہو گا؟ اکرم درانی نے بتا دیا

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک اور ٹویٹ میں آزادی مارچ کے لئے فنڈ کی رسید شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کو کشمیر سے زیادہ کشمیر کمیٹی سے دلچسپی ہے۔ منسٹر کالونی کے گھر کیلئے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن نہ کریں۔ مولانا صاحب مارچ کشمیریوں کی آزادی کے لئے کریں، چوروں کی آزادی کے لیے نہیں؟

مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ، ن لیگ اختلافات کا شکار، اراکین اسمبلی کا نواز شریف کی بات ماننے سے انکار

لانگ مارچ، اپوزیش کا جواب، مولانا نے سجادہ نشینوں سے مانگی مدد

آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمان گرفتار ہوئے تو قیادت کون کرے گا؟ اہم خبر

حکومت کے گھیراؤ کے لئے مولانا فضل الرحمان نے پھیلائی جھولی

مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

آزادی مارچ مزید تاخیر کا شکار، مولانا نے شہباز شریف کو کر لیا راضی

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ فضل الرحمان نےاسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی تو لوگ انھیں خود روک لیں گے ، وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے ان کو سہولیات دی جائیں گے ، کیٹینر اور پانی بھی فراہم کریں گے لیکن اگر قانون ہاتھ میں لیا گیا تو روکیں گے

واضح‌ رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کشمیر کے حوالہ سے کوئی مضبوط کردار دیکھنے میں نہیں‌ آیا ہے حالانکہ وہ کشمیر کمیٹی کے متعدد مرتبہ چیئرمین رہ چکے ہیں اور ان کی وزارت پر کروڑوں‌ روپے کے اخراجات آتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے اس بات پر سخت تنقید کی جارہی ہے کہ وہ کشمیر کیلئے کو کچھ کر نہیں‌ رہے، جمعہ کے دن یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھی انہوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن حکومت کے خلاف وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور دھرنا دینے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں،

اسلام آباد میں بلاول زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس اے پی سی کے بعد چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی جس میں اپوزیشن جماعتوں کو ناکامی ہوئی، بعد ازاں ایک اور اے پی سی ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد مارچ کریں گے،اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں.

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

Leave a reply