مفتی ویڈیو سیکنڈل،لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے ایسی سزا تجویز کی کہ مولانا فضل الرحمان دیکھتے رہ گئے

0
97

مفتی عبدالعزیز ویڈیو سیکنڈل،لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے ایسی سزا تجویز کی کہ مولانا فضل الرحمان دیکھتے رہ گئے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالعزیز ویڈیو سیکنڈل میں سزا تجویز کی ہے

ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مفتی عبدالعزیز ویڈیو سیکنڈل بارے گفتگو کر رہے ہیں، مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ویڈیو مجبورا ہم نے دیکھی، علماء نے دیکھی، یہ ویڈیو ایسی نہیں نشہ پلا کر نہیں، حرکات و سکنات بتا رہی ہیں کہ وہ خود حرکات میں شریک ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کو نافذ کیا جائے، اور سب سے پہلے مفتی عزیز الرحمان کو شرعی سزا دی جائے، انکی سزا یہ ہے کہ انہیں مینار پاکستان سے نیچے گرایا جائے

مفتی عزیز الرحمان پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، پولیس نے انکی گرفتاری کے لئے گزشتہ روز چھاپہ مارا لیکن وہ فرار ہو گئے، اگر مفتی عزیز الرحمان پاکدامن تھے تو وہ فرار کیوں ہو گئے، فرار ہمیشہ مجرم ہی ہوتے ہیں، پاکدامن ہوتے تو وہ گرفتاری دیتے، کیس چلتا، حقائق سامنے آ جاتے لیکن ایک وضاحتی ویڈیو میں اعتراف جرم کے بعد وہ فرار ہو گئے اور ابھی تک پولیس کے ہتھے نہیں چڑھے

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے مفتی عزیز الرحمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے مفتی عزیز الرحمان کو گرفتار کیا جائے اور سر رام پھانسی دی جائے

واضح رہے کہ جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور کے استاد مفتی عزیز الرحمن کی اپنے شاگرد صابر شاہ سے بدفعلی کی وڈیو منظر عام پر آئی ہے. گزشتہ 3 سال سے مفتی عزیز اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کررہا ہے. ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد انتظامیہ نے مفتی عزیز سے لاتعلقی کرتے ہوئے مدرسہ سے فارغ کردیا ہے. پولیس نے متاثرہ طالب علم کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے. تاحال مفتی عزیز کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے.

پاکستان کے مدارس میں زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے. ان واقعات سے مدارس کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوگئی ہے. ہر آنے والے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد پریشان ہے ،

 پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

مذہبی رہنماوں کا ردعمل

طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

ایک رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں پاکستان میں 89 بدفعلی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں. ان میں 66 واقعات بچوں کے ساتھ بدفعلی کے ہیں. جن ان کی عمریں 11 سے 15 سال تک کی ہیں. اسی طرح ایک ایک واقعہ رواں برس ماہ اپریل میں پیش آیا. ایک امام مسجد 3 سال سے اپنے شاگرد کو زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا اور اپنے ساتھی کی مدد سے اس کی ویڈیو بھی بناتا تھا. پولیس نے امام مسجد اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا. بعد میں امام مسجد کے ساتھ مدعی پارٹی نے صلح کر لی اور تین سال تک بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے درندے کو ایک بار پھر آزاد کر دیا گیا

اسی طرح مانسہرہ میں مدرسے کے استاد نے 10 سالہ شاگرد سے 100 بار زیادتی کا واقعہ سامنے آیا. اسی طرح پاکپتن میں مدرسہ کے استاد نے 12 سال کے شاگرد سے زیادتی کی تھی. زیادہ تر ایسے واقعات بدنامی کے ڈر سے رپورٹ نہیں کرواتے ، زیادتی کیس میں عدالتیں ملزمان کو سزائیں بھی سنا چکی ہیں،2018 میں زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا. ملزم کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا ہے. 2020 میں لاہور موٹروے پر زیادتی کا کیس سامنے آیا. ملزمان کو گرفتار کر کے سزا سنائی گئی. تا ہم ایسے واقعات کی روک تھام ابھی تک نہ ہو سکی

میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

Leave a reply