محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

0
86

یہ دنیا تاریکی و اخلاقی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی تھی،ظلم و ستم کی بھٹی پوری قوت سے گرم تھی…
تقدس و حرمت کے مفہوم بدل چکے تھے…
کہ غارِ حرا سے وہ سراج منیر طلوع ہوئے،جن کے حُسن خلق کی کرنوں نے دنیا کے کونے کونے کو منور کیا…
اس چودھویں کے چاند سے زیادہ خوب صورت ختم الرسل صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گرد علم و عمل کے چمکتے تاروں نے جو ہالہ بنایا اور محبت و اطاعت کی جو انمٹ داستان عمل و خون سے لکھی وہ رہتی دنیا تک کے لیئے ایک انمٹ مثال بن چکی ہے…
اس سے بڑا اعزاز ان کے لیئے اور کیا ہو سکتا ہے کہ خالقِ کائنات قرآن میں انہیں حزب اللّٰہ یعنی اپنی جماعت کہہ رہا ہے…
دنیا میں ہی جن پر اپنی رضوان کے اعلانات فرما کر ان کے مقام و مرتبہ کو اس دنیا کے ہر خاص و عام کو بتا دیا ہے…
وہ اپنا گھر بار خدمت نبوی میں پیش کرتے ابو بکر صدیق،وہ مسلمانوں کو شان و شوکت بخشتے عمر،
اپنا سب کچھ ساعۃ العسرۃ میں فی سبیل اللہ لٹاتے عثمان…
اور حسن و حسین کے والد شیرِ خدا،دامادِ مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنھم کی عظمت و کردار کس پر واضح نہیں ہے…؟؟
وہ اصحابِ رسول جو پیارے رسول کے حکم کے مطابق جب ہجرت کی راہوں پر نکلے تو وہ مہینہ محرم الحرام کا تھا…
محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے،ارشادِ ربانی ہے:
"مہینوں کی تعداد اللّٰہ کے نزدیک کتاب اللّٰہ میں بارہ ہے،اس دن سے جب سے اُس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا،ان میں چار مہینے ادب و احترام والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے…”
(التوبہ:36)۔
یہ چار حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"سال بارہ مہینوں کا ہے،جن میں سے چار حرمت والے ہیں،تین مسلسل ہیں،ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم،
جبکہ ایک مہینہ رجب ہے…”
(صحیح بخاری_کتاب بدءالخلق)۔
ان حرمت والے مہینوں سے مراد یہ ہے کہ ان میں جو چیز فتنہ و فساد،لڑائی جھگڑے اور امن عامہ کی خرابی ہو،اس سے منع کیا گیا ہے…!!!
ماہ محرم اسلامی سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے،اور اس کی بنیاد مسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت پر ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ نے محرم میں اللّٰہ اور رسول اللہ کے حکم پر زور و شور سے مدینہ کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی،اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سفرِ ہجرت صفر تا ربیع الاوّل ہے…
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے جب تمام حکومتی محکموں کو منظم فرمایا تو تاریخ جاری کرنے کا مسئلہ بھی زیرِ غور آیا،چنانچہ انہوں نے ہجرت کے عظیم عمل کا انتخاب فرمایا جو محرم میں شروع ہوا اور اسی مناسبت سے ہجری سن کا آغاز ہوا،
اور یوں ہجری سن کا تقرر اور آغاز اٹھارہ ہجری میں دورِ خلافت عمر رضی اللّٰہ عنہ میں ہوا…!!!
یہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہیں کہ اسلامی سال کا آغاز بھی امن کے پیغام کے ساتھ ہوتا ہے اور اختتام بھی حرمت اور محبتوں والے مہینہ ذوالحجہ پر ہوتا ہے جو اسلام کی اَمن پسندی کی بہت بڑی دلیل ہے…!!!
اسلامی سن کے آغاز میں محبتوں کا وہ انمٹ سلسلہ بھی ذہن کے نقوش پر ابھرنے لگتا ہے کہ جب مہاجرین اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللّٰہ کی رضا کی خاطر ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو انصارِ مدینہ نے محبتوں اور الفتوں کا جس شدت سے اظہار کیا اسے اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کچھ یوں بیان کیا ہے:
"اور جو لوگ ان(مہاجرین) کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے،یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے
دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ خود کتنے ہی ضرورت مند کیوں نہ ہوں…”
(الحشر:9)۔
جب علاقائی اور خاندانی عصبیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے گھروں،زمینوں،باغات اور حتّٰی کہ دو بیویوں والوں نے ایک کو طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائیوں کو نکاح کرنے تک کی پیشکش کر دی تھی۔
پیار و محبت اور ایمانی رشتوں کی خوشبو سے مہکتی مواخات کا وہ خوب صورت منظر بھی نگاہوں میں جھلملانے لگتا ہے…!!!
حالی نے اس کا نقشہ کیا خوب کھینچا ہے:
جب امت کو مل چکی حق کی نعمت…
ادا کر چکی فرض اپنا رسالت…
رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی صحبت…
نبی نے کیا خلق سے قصد رحلت…
تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی…
کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی…
سب اسلام کے حکم بردار بندے…
سب اسلامیوں کے مددگار بندے…
اللّٰہ اور نبی کے وفادار بندے…
یتیموں کے،رانڈوں کے غمخوار بندے…
رہِ کفر و باطل سے بیزار بندے…
نشہ میں مئے حق کے سرشار بندے…
جہالت کی رسمیں مٹا دینے والے…
کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے…
سر احکامِ دین پر جھکا دینے والے…
خدا کے لیئے گھر بار لٹا دینے والے…
ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے…
فقط ایک اللّٰہ سے ڈرنے والے…
ان مہاجرین و انصار نے وفاؤں کا ثبوت بدر و احد میں پیش کیا…
طائف و حنین میں پیش کیا…
تبوک و موتہ میں پیش کیا…
محرم کے مہینہ میں ہی یہ جاں نثار چھلنی اور پھٹے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ کر غزوہ ذات الرقاع میں وفاؤں کا ثبوت پیش نظر آتے ہیں…!!!
تاریخ کا سفر جاری رہتا ہے کہ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یکم محرم الحرام
چوبیس ہجری میں ابو لؤلو فیروز نامی مجوسی غلام کے ہاتھوں شہادت کی موت سے ہمکنار ہوتے ہیں…
وہ عمر جس نے اسلام کا پرچم چہار جانب لہرایا تھا.
اور دنیا حکمرانی میں کامیابی کے لیئے آج بھی اس کی طرف دیکھتی ہے…!!!
وہ عظیم لوگ جن پر رب نے اپنی رضا اتار دی ہمارا کام صرف ان نقوش کی پیروی کرنا ہے…
ان سے محبت رکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو کوئی میرے صحابہ سے محبت رکھے،اللّٰہ بھی اس سے محبت رکھے گا،اور جو کوئی ان سے دشمنی رکھے گا تو اللّٰہ اس سے دشمنی رکھے گا…”(صحیح بخاری)۔
اختلافات در اختلافات نے امت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا…
ہمیں حقائق کی روشنی میں معاشرے میں برداشت اور اصلاح کی ترویج کرنی چاہیئے…!!!
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میرے صحابہ کو برا نہ کہو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر لے،تو میرے صحابہ کے مُد یا آدھے مُد کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا…”(صحیح بخاری)۔
یہی وہ جماعت تھی جن کی دن رات کی محنت اور قربانیوں کی بدولت اللّٰہ کا دین دنیا کے کونے کونے میں پہنچا…!!!
جنہوں نے ہر مصیبت کو محبتِ رسول میں قبول کیا
61ہجری محرم الحرام میں تاریخ کے صفحات پر وہ دلدوز داستان رقم ہے جب نواسۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم جگر گوشۂ بتول حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سازشی اور فتنہ پرداز ٹولے کے ہاتھوں کربلا کے میدان میں شہادت کا عظیم رتبہ پاتے ہیں…
کوفیوں کی بد عہدی اور بے وفائی کوفی لا یوفی کی مثال بن گئی۔
وہ حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جنہیں اللّٰہ کے رسول نے نوجوانانِ جنت کا سردار کہا…
جن کے بارے میں فرمایا:
حسین مجھ سے ہے اور میں حسین ہوں،جو حسین سے محبت کرے،اللہ اس سے محبت کرے…” (سنن الترمذی)۔
قاتلوں کے تھے جو خنجر…
وہ دل تھے کیسے بنجر…
نبی کی گود میں پلے…
جہاں نشانہ حسین ہیں…!!!
*تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانو یعملون¤*
اسی طرح محرم الحرام میں نیک عمل بالخصوص روزوں کی بڑی فضیلت ہے…
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں…(صحیح مسلم)۔
یومِ عاشورہ کے روزے کے بارے میں فرمایا:
یکفر السنہ الماضیۃ…(صحیح مسلم)۔
یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے…”
ہمیں ہر ممکن نیک اعمال بجا لانے اور ان کی قبولیت کی دعا کرتے رہنا چاہیئے وہ اعمال جو خالص اللّٰہ تعالٰی کی رضا کے لیئے اور سنت کے مطابق ہوں…
کسی بھی اچھے عمل کی قبولیت کی یہ دو بنیادی شرائط ہیں…!!!
صِدقِ خلیل بھی ہےعشق صبرِحُسینؑ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق…!!!
================================

Leave a reply