ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے،مولانا فضل الرحمان

0
32

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے لوگوں نے جمعیت علمائے اسلام سے امیدیں لگا لی ہیں،

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری آواز پر لوگوں کا سمندر امڈ آتا ہے،ہم نے حکومت کو تسلیم کیا نہ کریں گے،ہم عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے،سہارے پر چلنے والی حکومت عوام کو کچھ نہیں دے سکتی،دھاندلی سے آنے والی حکومت ہمیں شفاف انتخابات کا درس دے رہی ہے، اسمبلی سے غیر اسلامی قوانین منظور کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے،پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ اس وقت اپنے قریبی دوست ہمسایہ ممالک کو ناراض کردیا گیا ہے، ہزاروں گھروں کے چولہے بجا دیئے گئے، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کرنے والوں نے لاکھوں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا، مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، عوام خود کشیاں کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں، پاکستانی عوام نے نااہل حکومت کو ووٹ نہیں دیا، موجودہ حکومت کو چوری کے الیکشن سے لایا گیا اور مخصوص ایجنڈے پر عمل کرایا جارہا ہے حکومت کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر الیکشن کمیشن نے اعتراض کردیا ہے،اوورسیز پاکستانی اپنےملک کے لیے جدوجہد کرتے ہیں وہ وفادار ہیں،پہلے نوجوان نسل کو دھوکا دیا گیا آج اوورسیز پاکستانیوں کو جھانسہ دیا جا رہا ہے، ہمارا مؤقف بڑا واضح ہے،ہم ان لوگوں کو انتخابی اصلاحات کا حق دینے کیلئے تیار نہیں، حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے،حکومت نے معیشت تباہ و برباد کر دی ہے، چین سے آنے والی سرمایہ کاری کو موجودہ حکومت نے تباہ و برباد کر دیا،اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے،

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ افغا نستان کی صورتحال یقیناً قابل توجہ ہے، اور عالمی برادری کے لیے قابل توجہ ہے، وہ قوم جو چالیس سال سے حالت جنگ میں ہے چالیس سال سے جی، روس کے خلاف، پھر انکی اپ کی لڑائیاں، پھر ایک ط ال ب ان کا دور، پھر بیس سال امریکہ سے لڑائیاں نیٹو سے لڑاٸیاں۔ پورا افغا نستان جو ہے اس وقت کھنڈر ہے کھنڈر، اور ایک کھنڈر ملک اس وقت ط ال ب ان کو ملا ہے۔ اب یہ تو نہیں کہ فتح یابی کے اگلے دن افغا نستان جو ہے وہ سرسبز و شاداب بن جائے اور ہر گھر میں گھی اور شہد کی نہریں بہنے لگ جاٸے۔ ابھی اس کو بنانا ہے، عالمی برادری نے اس ملک کو تباہ کیا ہے، نیٹو نے اس ملک کو تباہ کیا ہے، امریکہ نے اس ملک کو تباہ کیا ہے، اس ملک کو آباد کرنے کی ذمہ داری بھی اب انہی کے اوپر ہے۔ کہ وہ افغا ن ستان پر اتنا خرچ کریں کہ افغا ن ستان بن جائے۔ ایسے شرائط رکھنا طا ل ب ا ن کے سامنے کہ دوحہ معاہدے سے تجاوز ہو اس میں اضافہ ہو، اس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، اور ہم نے ان سے کہا ہے کہ اپ جو شرائط رکھ رہے ہیں ایک تو اس امن معاہدہ میں اضافہ ہے۔ آپ انسانی حقوق کی بات کرتے ہے آپ خواتین کی حقوق کی بات کرتے ہیں، انکی تعلیم کی بات کرتے ہیں، اداروں میں انکی ملازمتوں کی بات کرتے ہیں۔ جبکہ طا لبا ن ابھی حالت جنگ میں ہے، اور پھر جو سخت گیر قسم کے لوگ جو مورچوں میں رہے ہیں اور بیس سال مورچوں میں لڑ کر اترے ہیں ظاہر ہے کہ اس ماحول پر ان کے اثرات غالب ہے۔ لہٰذا پہلے امن کا استحکام، اس سے آگے بڑھے پھر سیاسی استحکام، ایک نظام وہاں پر موجود ہونا۔ پھر اس سے آگے جائے تو پھر ان کی معیشیت اور اسکے مستقبل کو معاشی لحاظ سے مستحکم کرنے کی بات کرے۔

پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان

@MumtaazAwan

Leave a reply