fbpx

مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان

مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں نے ڈی چوک پر دھرنا دے رکھا ہے

حکومت کی میڈیا کے خلاف دہشت گردی، میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف صحافیوں کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا جاری ہے پارلیمان کی کاروائی کور کرنے والوں صحافیوں کو پریس گیلری میں داخلے سے روک دیا گیا ،اسلام آباد، پنڈی و دیگر شہروں سے صحافیوں کی بڑی تعداد ڈی چوک پر موجود ہے، صحافی اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کر رہی ہیں وہیں حکومت کی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے پہنچ گئی،وفاقی وزیرآئی ٹی امین الحق کی اسلام آباد میں صحافیوں کے دھرنے میں آمد ہوئی ہے ،امین الحق کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر نہیں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے آیا ہوں ،ایم کیوایم صحافیوں کے مطالبات کے ساتھ کھڑی ہے اس موقع پر صحافیوں کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، پریس گیلری میں جانے سے روکا جارہاہے،

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں اس بل کو پاکستان میڈیا ڈنڈا اتھارٹی کہوں گا،جہاں جمہوریت ہے وہاں صحافت ہے،پاکستان میں آنے والی آمرانہ جمہوریت میڈیا کی زبان بندی چاہتی ہے،میں میڈیا کے ساتھ کھڑا رہوں گا،میں نے میڈیا کا ساتھ دینا اپنے والد سے سیکھا ہے،میڈیا کی آزادی پر سیاستدانوں پر کوئی اختلاف نہیں ہیں،میڈیا کی آزادی پر سب متفق ہیں،اسلام آباد کی طرف مارچ ہمارے ذہین میں تجویز ہے،انشاءاللہ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے،

ن لیگی قیادت احسن اقبال خواجہ آصف شہباز شریف بھی صحافیوں کے دھرنے میں پہنچ گئے صدرمسلم لیگ ن شہبازشریف نے صحافیوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ کالا قانون پاس نہیں ہونے دیں گے،پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں صحافیوں کےساتھ ہے،پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں صحافیوں کےساتھ ہیں،میڈیا نے خودجدوجہدک رکے یہ آزادی حاصل کی ہے،

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے ساتھ ہر جگہ احتجاج کرنے کیلئے تیار ہوں پرویز مشرف کے کالے قوانین کو 18ویں ترمیم سے ختم کیا اگر کالا قانون بنتا ہے تو فورن عدالتوں سے رجوع کریں گے،جب بھی ملک میں کسی آمر کی یا سلیکٹیڈ کی حکومت آتی ہے تو وہ عوام کی آواز دبانے کیلئے آزادی صحافت اور میڈیا پر پابندی عائد کرنے کیلئے کالے قانون بناتی ہے،موجودہ حکومت کو کسی صورت بھی حق روزگار پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے خلاف سازش آج نہیں ہوئی یہ پچھلے تین سال سے شروع ہوگئی تھی یہی وجہ ہے کہ آپ لوگ پیچھے نہیں ہٹے آپکے حوصلے پست نہیں ہوئے اسی لیے یہ آج کالا قانون لیکر آرہے ہیں.اتنے بزدل ہیں جو کالا قانون لارہے ہیں وہ دکھاتے نہیں ہیں انشاءاللہ اسے ہم پاس نہیں ہونے دینگے

اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ صحافیوں کے دھرنا میں پہنچ گیئے پولیس گردی کے خلاف صحافی برادری سے اظہار یکجہتی کی جبکہ سابق رکن اسمبلی عمران ندیم ,سابق ممبر کیپٹن سکندر علی سمیت دیگر بھی شریک ہیں

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد شہباز شریف، مریم اورنگزیب اور بلاول بھٹو صحافیوں کے دھرنے میں پہنچ گئے ،اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ میڈیا کے لیے اپوزیشن ایک پیج پر ہے،پارلیمنٹ میں صحافیوں کےلیے بھرپور احتجاج کیا ہے جہاں بادشاہت ہوتی ہے وہاں صحافت نہیں ہوتی،آئین سے متصادم قوانین پر خاموش نہیں رہیں گے،کسی کٹھ پتلی کے کالے قانون کو پاس ہونے نہیں دیں گے، پارليمان سے لے کر عدالت تک میڈیا کے ساتھ تھے اور رہیں گے جوزبان بندی ضیا کا کالا قانون نہ کر سکا یہ کٹھ پتلی حکومت بھی نہیں کر سکے گی میڈیا کی زبان بندی پر عدالت جائیں گے،ہر فورم پر اس بل کے خلاف آواز اٹھائیں گے

صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار