fbpx

مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کئے جانے سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت ہوئی

جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، ۔سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ثنا اللہ عباسی اور چیئرمین پیمرا سلیم بیگ عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے جبکہ انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس قاضی جمیل الرحمان بھی عدالت میں پیش ہوئے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے والے پہلے کارروائی کرتے ہیں بعد میں قانونی طریقہ کاردیکھتے ہیں اورکبھی کسی کوپکڑکربٹھا لیتے ہیں اورکبھی کسی کو چھوڑ دیتے ہیں تحقیقاتی ادارے کو واضح طریقہ کار کے تحت ایف آئی آر درج کرنی چاہئے.

ڈ ی جی ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں لیکن ریگولیشن پیکا ایکٹ کے تحت کرتے ہیں چار سال میں صحافیوں کے خلاف 27 شکایات ملیں جن میں سے صرف چار شکایات کی انکوائری میں تبدیل ہوئیں اور مقدمات درج ہوئے ،دوران سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی صاحب پریس کی ریگولیشن پیکا ایکٹ کے تحت نہیں ہوتی آپ اپنی سوچ واضح کریں صحافتی آزادی آرٹیکل 19 کے تحت ہوتی ہے فاضل جج نے ثنا اللہ عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ذاتی طور پر ہر ایک کیس کے ذمے دار ہیں

صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

جسٹس منیب اختر نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا اور کہا کہ بتائیں صحافت کی کیاتعریف ہے؟ اگر منیب اختر کیمرا پکڑ کر یوٹیوب چینل پر تنقید شروع کرلے تو کیا یہ صحافت ہوگی؟میں کسی کی نہیں اپنی مثال دے رہا ہوں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے سلیم بیگ سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا نے صحافیوں یا چینلز کے خلاف کاروائیوں کے ایس اوپیز مرتب کئے پیمرا کو آئین میں کارروائی کا طریقہ کارنہیں دیا گیا اس کے لئے ایس اوپیز بتانا ضروری ہیں،

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ملک کے اعلیٰ ادارے کے طور پر صحافتی آزادی کا تحفظ کرے گا،حدود ہر چیز کی مقرر ہیں یہ واضح ہونا چاہئے کہ آپ کی حدود کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہیں جائزہ لیں گے کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی آرٹیکل 19سے متصادم تو نہیں ہے گائیڈ لائنز جاری کریں گے جس پر حکومت اورتمام ادارے عمل کریں گے

جسٹس قاضی امین نے آئی جی اسلام آباد سے استفسارکیا کہ اسلام آباد میں ایک صحافی کو پیٹ میں گولی ماری گئی اس واقعے کے ملزمان کے بارے میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟ جس پر آئی جی نے بتایا کہ اس کیس کی ابھی تفتیش ہورہی ہے جسٹس قاضی امین نے کہا کہ بھول جائیں تفتیش کو یہ آپ کی ناکامی ہے کہ اب بس تفتیش ہورہی ہے دن دہاڑے ایک شخص کو گولی مار دی گئی اور آپ ملزمان نہیں پکڑ سکے آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے سی سی ٹی وی سے شکلیں ٹریس کرکے نادرا کو بھجوائیں لیکن شناخت نہیں ہو سکی جس پر جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ مینار پاکستان واقعے کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ ملزمان کا گرفتار نہ ہونا آئی جی صاحب آپ کی ناکامی ہے ،سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق ازخود نوٹس پر ڈی جی ایف آئی اے سے صحافیوں کے مقدمات سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے

صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان