نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

0
256
nawaz

سابق وزیراعظم نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد آج پاکستان پہنچ گئے ہیں، جیل میں بیمار ہونے والے نواز شریف لندن گئے توپھر چار سال تک پاکستان نہ آئے، بھائی شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیڑھ برس حکومت کی، نواز شریف واپس نہ آئے، عمران خان جیل گئے اور نگران حکومت بنی تو نواز شریف کا واپسی کی تاریخ کا اعلان ہوا، غیر یقینی کیفیت تھی ، عدالت میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر ہوئیں تو عدالت نے مجرم کو ضمانتیں دے دیں،اسکے بعد نواز شریف آج پہلے اسلام آباد پہنچے وہاں سے لاہور آئے اور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کیا

نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو مریم نواز آبدیدہ ہوئیں، نواز شریف بھی رو پڑے،شہباز شریف نے مختصر خطاب کیا اسکے بعد نواز شریف نے 58 منٹ خطاب کر کے ن لیگ کا نیا بیانیہ قوم کے سامنے رکھا، مینار پاکستان گراؤنڈ میں آج سٹیج سیکرٹری کے فرائض مریم نواز نے سنبھالے رکھے نواز شریف ایئر پورٹ آئے، شاہی قلعہ میں ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ ہوئی مگر مریم اپنے والد نواز شریف کو ملنے نہ گئی بلکہ سٹیج پر ہی انتظار کیا، مریم نواز شرکا کے جذبات کو گرماتی رہیں، لال سوٹ پہنے مریم کے آنکھوں سے آنسو آئے تو ساتھ کھڑی مریم اورنگزیب بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں،نواز شریف نے اپنے خطاب میں قوم کو جو بیانیہ دیا اس میں بھارت سے دوستی، انتقام کے راستے بند، ملکی ترقی، آئین پر عملداری، اور متحد ہو کر چلنے کا ہے، نواز شریف آج اپنی تقریر کے آخر میں مولانا بن کر کارکنان کو نصیحتیں بھی کرتے رہے کہ درود شریف پڑھیں، تہجد پڑھیں اور رب سے مانگیں، نواز شریف نے اپنے خطاب میں عمران خان کا نام نہیں لیا لیکن عمران خان پر تنقید کرتے رہے، نواز شریف نے ایک بار اپنے خطاب میں خؤاتین کے بارے پوچھا کہ جلسہ گاہ میں کہاں ہیں، جب نواز شریف کو بتایا گیاکہ خواتین کا پنڈال اس طرف ہیں تو نواز شریف نے کہا کہ ہمارے جلسے میں خواتین آرام سے جلسہ سن رہی ہیں،کوئی ڈھول،ناچ گانا نہیں ہو رہا،

نواز شریف جب اقتدار سے نکالے گئے تھے تو اس وقت نواز شریف نے نعرہ لگایا تھا کہ مجھے کیوں نکالا؟ وہ نعرہ آج بھی نواز شریف لگاتے نظر آئے، نواز شریف نے شرکاء سے روٹی، پٹرول،ڈالر کی قیمت پوچھی اور اپنے دور کی قیمتیں بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے اس لئے نکالا گیا کہ میرے دور میں روٹی سستی تھی، پٹرول سستا تھا، بجلی سستی تھی، لوڈشیڈنگ نہیں تھی،نواز شریف عوامی ہمدردی ھاصل کرنے کے لئے بجلی کا بل بھی ساتھ لائے اور اپنے دور کے بلوں کے ساتھ موازنہ کیا ،نواز شریف نے اپنے دور کی کارکردگی بتائی موٹرویز گنوائیں، تو وہیں شہباز شریف دور کی صفائیاں پیش کرتے رہے کہ جب وہ وزیراعظم تھے قیمتیں اس سے پہلے کی بڑھنا شروع ہو گئی تھیں،

نواز شریف نے گرفتاری کے دنوں میں ہونے والے واقعات کا بھی تذکرہ کیا ،اہلیہ کی موت کی خبر کیسے ملی، مریم نواز کو کیسے بتایا، جیل سے نواز شریف کی آنکھوں کے سامنے سے مریم نواز کو کیسے گرفتار کیا، سب بتایا اور ساتھ اللہ سے دعا مانگی کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا،نواز شریف نے عمران خان کے دور حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کوئی منصوبہ، کوئی کارنامہ انکا ہے تو سامنے لاؤ، نواز شریف نےاپنے کارکنان کو یہ بھی نصیحت کی گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، نواز شریف نے آج جلسے کے شرکا سے عہد لیا کہ ملک کی تعمیر نو کریں گے اور پاکستان کو ایک بار پھر جنت بنائیں گے،

نواز شریف نے اپنے خطاب میں الیکشن کا ذکر نہیں کیا نہ ہی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں الیکشن کروائے جائیں، پاکستان میں نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ جنوری کے آخر میں الیکشن کروائیں گے تا ہم ابھی تک واضح نہیں کہ الیکشن کب ہوں گے، نواز شریف اپنے 58 منٹ کے خطاب میں انتخابات کے حوالہ سے بالکل خاموش رہے،

نواز شریف کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے مریم نواز نے لندن سے واپس آ‌کر ن لیگ کو متحرک کیا، اجلاس کئے اور ضلعی رہنماؤں کو پابند کیا گیاکہ وہ جلسے میں بندے لائیں گے، ایک فارم جاری کیا گیا جسمیں ہرگاڑی میں سوار افراد کی تعداد لکھنی تھی اور وہ تعداد مانیٹرنگ ٹیم نے چیک کی، ایک ایپ بھی ن لیگ نے بنائی تھی جس کے ذریعے ن لیگ یہ مانیٹر کرتی رہی کہ جلسہ گاہ میں‌جو لوگ آئے ان میں سے باہر کوئی نہ جائے،

نواز شریف کے جلسے میں لاہوریوں نےکتنی شرکت کی؟ مینار پاکستان گراؤنڈ بھرا ہوا تھا تا ہم اس میں لاہوریوں کی تعدا د نہ ہونےکے برابر تھی، ن لیگ نے لاہور میں محنت کی، تاہم عوام کو نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکی، لاہوری گھروں میں رہے، سارا لاہور کھلا رہا، مارکیٹس بند نہیں ہوئیں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا،لاہور جسے ن لیگ کا گڑھ کہا جاتا تھا اس نے آج کے جلسے سے یہ ثابت کر دیا کہ گڑھ نہیں بلکہ گڑھا ثابت ہوا ہے، جلسہ گاہ میں بیرون لاہور سے آئے افراد تو موجود تھے لیکن لاہوریوں کی تعداد انتہائی کم تھی،اگر لاہوری جلسے میں جاتے تو پھر منظر ہی کچھ اور ہونا تھا تا ہم شہباز شریف دور حکومت کی مہنگائی ،بجلی کے اضافی بل، آٹے کی قیمت میں اضافہ، چینی کے بڑھتے نرخوں نے لاہوریوں کو گھروں پر ہی رہنے کو مجبور کیا.ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد بتائی جا رہی ہے، جس طرح استقبال کی مہم چلائی گئی، وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ڈی سی گاڑیاں بک کروا کر دیتے رہے،ہر ضلعے سے باقاعدہ حاضری لگوائی ،ٹکٹ ہولڈر کو پابند کیا گیا کہ بندے نہ آئے تو ٹکٹ نہیں،ایسے میں ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد ن لیگ کی ایک طرف سے کامیابی بھی ہے اور ناکامی بھی کیونکہ یہ وہ بندے تھے جو ازخود نہیں آئے بلکہ زبردستی کہہ کہہ کر لائے گئے،

نواز شریف کا نیا بیانیہ؟ کیا قوم اس سے متاثر ہو پائے گی؟ کبھی بھی نہیں، نواز شریف نے جلسے میں کوئی نئی بات نہیں کی ،بیانیے میں انتقام نہ لینے کی بات نئی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو گا کیونکہ ن لیگ جتنا انتقام لیتی ہے شاید اس سے زیادہ کوئی اور لیتا ہو، ماضی کھنگال کر دیکھ لیں، بینظیر کے بارے نواز شریف کیا کہتے تھے؟ خواتین کے بارے میں ن لیگی رہنما کیا کہتے رہے؟ کبھی ٹیکسی، تو کبھی ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا رہا،ایسے میں قوم کیسے یقین کرے کہ نواز شریف بدل گئے ہیں؟ نواز شریف متحد ہونے کی بات تو کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار تو ن لیگ بھی متحد نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی جو چند دن قبل لندن میں نواز شریف کو مل کر آئے وہ آج جلسے میں نظر نہ آئے، مفتاح اسماعیل پارٹی چھوڑ چکے، نواز شریف مریم کو آگے لانا چاہتے ہیں لیکن ن لیگ کے متعدد رہنما مریم نواز کو پسند نہیں کرتے ، جب ن لیگ گھر میں متحد نہیں تو وہ سیاسی جماعتوں کو، کیسے متحد کرے گی؟

 نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

Leave a reply