fbpx

پاکستان کا سعودی وزیر خارجہ کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم پاکستان نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مسئلہ کشمیر پر بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

باغی ٹی وی : دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ اور پاکستان و بھارت کے درمیان تنازعہ قرار دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے تصفیہ طلب مسئلے کو بذریعہ مذاکرات حل کرنے پر زور دیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کئی بار ثالثی کی۔

مسائل کے حل کے لئے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے سعودی وزیر خارجہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی ہر پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے لیکن بھارت نے مسترد کیا ہے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے پرامن اور بذریعہ مذاکرات حل کی بات کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد پہ زور دیتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف سے ہمیشہ سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک کو آگاہ کرتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے دورے کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایک دن قبل بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے اور درست وقت میں ہم دونوں ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی ہائی کمشنر

سعودی وزیر خارجہ نے یہ انٹرویو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد دیا ہے کہا کہ مذاکرات کے لیے درست وقت کا تعین پاکستان اور بھارت پر منحصر ہے۔

مقبوضہ کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ’تنازع‘ جاری رہے گا تاہم ہم جس چیز کی حوصلہ افزائی کریں گے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تاکہ مسائل کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اسی دورے کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ طالبان حکومت تسلیم کرنے کے لیے انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

یہ ہماری دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن دہائی ہےجو ہمارے مستقبل کا لفظی تعین کرے گی جوبائیڈن

افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ نئی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے فیصلے اور اچھی حکمرانی کریں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کریں اور ایک ایسا راستہ اپنائیں جو استحکام، سلامتی اور خوشحالی کا باعث بن سکے۔

انہوں نے جنگ زدہ ملک کو امداد اور مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خیال میں بین الاقوامی امداد بنیادی طور پر افغان عوام کے فائدے کے لیے ہے اور اس لیے ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امداد جاری رہنی چاہیے اور ان حالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔