پی آئی اے کے پائلٹ کو جہاز اڑانے سے روک دیا گیا ، کیوں روکا ، کس نے روکا اہم وجہ سامنے آگئی

لاہور:پی آئی اے کے پائلٹ کو جہاز اڑانے سے روک دیا گیا ، کیوں روکا ، کس نے روکا اہم وجہ سامنے آگئی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کے پائلٹ کو قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جہاز اڑانے سے روک دیا. سی اے اے نے کیپٹن وقار حسین کو برخلاف قانون آرام کیے بغیر فلائیٹ آپریٹ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا۔

سی اے اے کی جانب سے جاری سے شوکاز نوٹس کے مطابق کیپٹن نے طویل دورانیہ کی فلائٹ اڑانے سے قبل 24 گھنٹے کا آرام نہیں کیا، پی آئی اے کا پائلٹ سی ون 30کے ذریعے کراچی سے اسلام آباد پہنچے تھے، جہاز کے عملے 9گھنٹے54منٹ بعد پی آئی اے کے طیارے کو کینیڈا لیکر روانہ ہوئے,جبکہ سی اے اے کے قوانین کے مطابق لمبی فلائٹوں میں کم از کم دو اور عملہ کو چوبیس گھنٹے آرام کرنا لازمی ہے.

لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی میں ڈائریکٹر فلائٹ اسٹینڈرڈ نے پرواز پی کے781جو 8اپریل کو ٹورنٹو کے لئے روانہ کی گئی تھی جس پر شوکاز نوٹس جای کیا گیا ہے، جس پر ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن کے نوٹس پر پی آئی اے کے سی ای او نے وفاقی وزیر سے رابطہ کیا ہے، سی ای او نے وفاقی وزیر کو تمام حقائق سے آگاہ کیا ہے.

ترجمان کا کہنا ہے کہ ریلیف فلائٹیں آپریٹ کرنے کے لئے کپتان اور عملے کو کراچی سے سی ون30طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا تھا، تمام عملہ مسافر کی حیثیت سے روانہ ہوا انھوں نے کوئی فلائٹ آپریٹ نہیں کی۔

 

 

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پی آئی اے کے دو پائلٹس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی،کوروناوائرس کے شعبے میں ٹورنٹو سے آنے والے پی آئی عملے کے تین پائلٹ اور دو کیبن کرو کے ٹیسٹ لیے گئے تھے، جن میں سے دو پائلٹس کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے، پی آئی اے کے دونوں پائلٹس کو ہوٹل سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، پی ائی اے کا یہ عملہ ٹورنٹو سے پرواز لیکر واپس آیا تھا، لاہور آنے پر عملے میں کوروناوائرس کے ٹیسٹ میں کچھ علامات سامنے آئیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.