پیاز کھا کر مسجد نہ آنے کا حکم دینے والا دین جان لیوا وائرس پر کیسے اجازت دے سکتا؟

دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے گذشتی کئی ہفتوں سے کئی ممالک بشمول پاکستان لاک ڈاؤن جاری ہے جس میں کاروباری زندگی سمیت دفاتر مساجد تعلیمی ادارے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے

باغی ٹی وی : رمضان کی آمد آمد ہے تاہم اس سلسلے میں علماء اکرام نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں مساجد کھلی رہیں گی اور لوگ نماز اور تراویح پڑھنے کے لئے مساجد جائیں گے اور صدر پاکستان نے بھی علماء کے اس فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے مساجد میں نماز اور تراویح اور عبادات کرنے کی منظوری دے دی ہے اس بات کو لے کر ملک بھر میں بحث و تکرار جاری ہے

اسی سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں سوال اٹھاتے ہوئے کیا گیا کہ اسلام آپ کو کہتا ہے کہ پیاز کھانے کے بعد مسجد نہ جانا کیونکہ بدبو دوسروں کو تکلیف ہو سکتی ہے کیا آپ واقعی میں سوچتے ہیں کہ وہی مذہب جو آپ کو کسی مسجد میں جانے سے منع کرتا ہے اگر آپ کو بدبو آ رہی ہے تو ممکنہ طور پر وائرس ہونےکے دوران اندر جانے کی حوصلہ افزائی کرے گا؟

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت بیان کی گئی ہے حدیث کے مطابق حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص پیاز اور لہسن کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اس لئےکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جن سے انسانوں کو تکلیف محسوس ہوتی ہے

صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بار خطبہ دیا جس میں فرمایا اے لوگو تم دو ایسے درخت یعنی سبزیاں کھاتے ہو جسے میں ناپسندیدہ سمجھتا ہوں جیسے پیاز اور لہسن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب مسجد میں کسی آدمی سے ان دوچیزوں کی بدبو محسوس فرما تے تواس کی بابت حکم دے کر اسے بقیع تک باہر نکلوا دیتے تھے لیکن جو شخص انہیں کھائے ان کو پکا کر اور بدبو زائل کر کے کھائے

تو مذکورہ بالا احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ لہسن اور پیاز کی بدبوسے جہاں انسان کو ناگواری محسوس ہوتی ہے وہاں فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف محسوس ہوتی ہے لہذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تو تکلیف دیتا ہی ہے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے اور اسی وجہ سے اس سے ناگواری ظاہر کی گئی ہے

لاک ڈاؤن کے باوجود پاکستانی علماء بہت زیادہ نماز تراویح کے لئے مسجد میں آنے کے لئے بحث و تکرار کر کر رہے ہیں اس کے حوالے سے مذکورہ بالا اھادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آداب کے خلاف یہ بات کی ہے آپ نے اگر مسجد آنا ہے تو پیاز وغیرہ نہ کھا کر آئیں یہ نہ ہو کہ آپ کے منہ کی بدبو کی وجہ سے آپ کے دائیں بائیں لوگوں کو کو پریشانی ہو

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر معمولی سی بات کے اوپر اتنی تاکید کی گئی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسی وبا کے ٹائم پر ایسا مرض جو دکھتا بھی نہیں ہے جس کی شناخت بھی نہیں اور جس وبا کی ابھی تک کوئی میڈیسن یا اس کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ بھی نہیں دریافت ہو سکا اور جان لیوا بھی ہے جس کی بدولت دنیا بھر میں لاکھوں اموات ہو چکی ہیں لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو چکا ہے تو اسلام ایسی چیزکی اجازت کیسے دے گا کہ جس سے بیماری پھیلنے اور لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہو ہماری اسلامی تعلیمات تو یہی کہتی ہیں کسی ایسی بات اور ایسے کام سے پرہیز کرو جس سے کسی کو تکلیف ہو

پاکستان علما کونسل کا ملک بھر میں محفوظ رمضان، محفوظ پاکستان مہم چلانے کا اعلان

ماہ رمضان کی آمد، چاند دیکھنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

کیا سوشل میڈیا سے دعوتِ دین کا کام نہیں لیا جاسکتا؟ تحریر: عبداللہ یوسف زہبی

حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.