fbpx

پولیس افسر کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری شوکارز نوٹس سپریم کورٹ نے کیا معطل

پولیس افسر کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری شوکارز نوٹس سپریم کورٹ نے کیا معطل
سپریم کورٹ میں ایس پی صدر حفیظ الرحمان کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کی ،

سپریم کورٹ نے ایس پی کی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس معطل کر دیا ۔ حفیظ الرحمان نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کو غلط حقائق بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے جوکہ خلاف قانون ہے

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے سپریم کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کو کارروائی سے روک دیا ہے عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کو ایس پی صدر حفیظ الرحمان کے خلاف شوکاز نوٹس معطل کر دیا ہے

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مدعی کا کہنا تھا کہ پولیس نے میرے پلاٹ پر قبضہ کرکے چوکی بنادی ہے، ایس پی صدر حفیظ الرحمان پلاٹ کا قبضہ واپس نہیں کر رہا،

گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں بھی کیس کی سماعت پوئی تھی، سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا ایس پی آج چھٹی پر ہیں ، میں تو انہیں معاف کرنے والا تھا، ہر بندے کی اپنی قسمت ہے ۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس سپریم کورٹ میں ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کر دیا ہے تو آرڈر دکھائیں ۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکم امتناع نہیں ، کیس کل کیلئے مقرر ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے حکم امتناع نہیں دیا صرف ریکارڈ طلب کیا ہے، آج پھر معافی کی درخواست ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج ایس پی ہوتے تو شاید معافی مل جاتی ،اب ایس پی کو معافی سپریم کورٹ سے ہی مل سکتی ہے ۔میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ۔

بڑے گھر رکھنے پر مالکان کو ٹیکس کے نوٹسز،لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

مزارات پر جانے والوں کو لاہور ہائیکورٹ نے سنائی خوشخبری

مزارات پر اکٹھا ہونے والا چندہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ چیف جسٹس

26 کروڑ کا نقصان برداشت کر لیا،مزید نہیں، پنجاب میں مزارات کھولنے کا فیصلہ

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایس پی نے عدالت میں جھوٹ بولا ، میں جھوٹ برداشت نہیں کروں گا، سپریم کورٹ کے ججز کے احترام کیلئے یہ کیس کل کیلئے رکھ رہا ہوں ، ہم تو جا رہے ہیں ، عدالتوں نے جھوٹ سننا ہے تو سنتی رہیں، سپریم کورٹ میں کل کیس فکس ہے ، ہم کیس کو کل تک ملتوی کر رہے ہیں، سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے کے بعد ہم اس کیس کو دیکھیں گے ۔کل میرا آخری ورکنگ ڈے ہے ، کل دیکھیں گے کہ جھوٹ پروان چڑھے گا یا نہیں ۔