fbpx

حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پولیس کا دوبارہ چھاپہ

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پولیس نے دوبارہ چھاپہ مارا۔

ترجمان اپوزیشن لیڈر کی جانب سے جری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی پی کے چہیتے اے ایس آئی فیضان کریم، نجی کپڑوں میں ملبوس افراد اور پولیس اہلکاروں نے چھاپہ مارا، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس فیملی میمبران کو ہراساں کررہی ہے، اہلکاروں نے گھر پر حلیم عادل شیخ کے متعلق معلومات لی۔ ایک گھنٹے بعد دوبارہ آئیں گے، پولیس اہلکار کہہ کر واپس روانہ ہوگئے۔

ترجمان اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی ایما پر پولیس انتقامی کاروائیوں میں مصروف ہے۔

خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ سمیت 3 ملزمان کی عبوری ضمانتیں منظور کی تھیں‌۔عدالت نے پولیس کو حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا ۔

عدالت نے ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، ساتھ ہی پراسیکیوٹر اور پولیس سے 21 مئی کو جواب طلب کیا۔پولیس کے مطابق حلیم عادل شیخ و دیگر پر 40 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گلشن معمار تھانے میں نیا مقدمہ درج کیا گیا۔

حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ کم آصف علی زرداری کے منشی زیادہ ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان پر قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ کم آصف علی زرداری کے منشی زیادہ ہیں، کہتے ہیں لیڈر آف اپوزیشن پر کوئی غیر قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ آپ نے مجھ پر گھوٹکی میں جھوٹا مقدمہ بنایا جس میں باعزت بری ہوا جبکہ عمرکوٹ میں آپ لوگوں نے جھوٹا مقدمہ بنایا اس میں بھی باعزت بری ہوا۔