پولینڈ میں نامعلوم شخص کی فائرنگ سے 5 افراد ہلاک، درجن سے زیادہ زخمی

پولینڈ کے تاریخی شہر کراکوف کے مرکزی مارکیٹ اسکوائر میں مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ سے 5 افراد ہلاک اور تقریباً 12 دیگر زخمی ہو گئے-
مقامی پولیس کے مطابق پولیس نے جوابی کارروائی کے دوران ملزم کو گولی مار کر زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جبکہ2 پولیس اہلکار بھی فائرنگ سے زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے،واقعہ شہر کے معروف مرکزی بازار میں پیش آیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اور سیاحوں کی اہم ترین تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
مالوپولسکا پولیس کے مطابق حملہ آور نے مبینہ طور پر فوجی طرز کا لباس پہن رکھا تھا اور لوگوں پر بے ترتیب فائرنگ کی، مسلح شخص نے گاڑی سے فائرنگ کی اور بعد ازاں فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے تعاقب کے بعد اسے گرفتار کر لیا۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے دوران اہلکاروں نے اپنے ہتھیار استعمال کیے، تاہم حملہ آور نے بھی جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے،ملزم بھی اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہوا، جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولینڈ کے وزیر داخلہ مارسن کیروینسکی نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے مذکورہ اہلکار کو 3 گولیاں لگی ہیں اور اس کا آپریشن جاری ہے۔
واقعے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں،پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے واقعے کو انتہائی افسوس ناک اور المناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صورت حال سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کراکوف روانہ ہو گئے ہیں تاکہ واقعے کی صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔ ایکس پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹسک نے تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں،ہم اس جرم کے تمام پہلوؤں اور حالات کا تعین کریں گے۔
واقعے کے بعد تاریخی مارکیٹ اسکوائر اور اس کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئےکراکوف کے پبلک ٹرانسپورٹ ادارے ایم پی کے ، کے مطابق مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے کے کچھ دیر بعد ایک گاڑی سے اس کی ایک ٹرام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ٹرانسپورٹ ادارے نے اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ گاڑی سے کی گئی تھی پولیس حکام واقعے کے تمام پہلوؤں، حملہ آور کے محرکات اور فائرنگ کے مختلف واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں،تاحال حکام کی جانب سے حملہ آور کی شناخت، فائرنگ کے محرکات یا واقعے کی حتمی نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں-
مزید پڑھیں





