طالبان ترجمان کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے افغانستان کو داعش سے پاک کرنے کے دعوے اور پاکستان میں متحرک ہونے کے الزام کو اقوام متحدہ، پاکستان سمیت دیگر عالمی اداروں نے مکمل مسترد کرتے ہوئے محض بے بنیاد الزامات اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
افغانستان میں طالبان رجیم کے ترجمان مولوی ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک آڈیو پیغام میں جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو کالعدم داعش سے مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے اور طالبان فورسز نے اس گروہ کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی ہے۔
اپنے پیغام میں ذبیع اللہ نے الزام عائد کیا کہ داعش کے عسکریت پسند اب پاکستانی سرزمین کا استعمال کرتے ہیں، وہاں تربیت حاصل کرتے ہیں اور انہیں وہاں سے سرپرستی ملتی ہے، جس کی وجہ سے یہ خطے کی سلامتی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک ناکام ریاست کے ترجمان کا پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے,اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی مسلسل اور متعدد رپورٹس اس بات کی تصدیق کر چکی ہیں کہ داعش خراسان کے افغانستان میں 2000 کے قریب جنگجو موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبے کنڑ، ننگرہار اور ہلمند اس تنظیم کے بنیادی اور اہم آپریشنل مراکز ہیں,شام میں داعش کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد داعش کے دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان منتقل ہو چکی ہے،اس کے علاوہ طالبان کے وہ عسکریت پسند جو حکومت کی جانب سے تنخواہوں کے پے رول پر جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہے، انہوں نے بھی داعش خراسان میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس سے اس تنظیم کو مزید تقویت ملی ہے۔
تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق موجودہ افغان رجیم دہشتگردوں کو پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے اور خود دہشتگردی کے فروغ کا سبب بن رہی ہے، افغانستان اس وقت عالمی اور علاقائی سطح پر دہشتگردی کا مرکز اور داعش کے لیے ایک لانچنگ پیڈ بن چکا ہے، اس کے باوجود افغان حکام اپنے نقائص چھپانے کے لیے پاکستان پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔
باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران افغانستان میں مقیم داعش کے 2 دہشتگردوں کی ہلاکت نے سرحد پار دہشتگرد نیٹ ورکس سے پاکستان کو لاحق سیکیورٹی خطرات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا ہےاس کارروائی کو ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق باجوڑ میں کارروائی کے دوران داعش خراسان سے وابستہ 2 ایسے کارندے ہلاک ہوئے جنہیں افغانستان میں قائم دہشتگرد نیٹ ورکس سے منسلک قرار دیا گیا ہے ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا افغان شہری ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے بعض خطرات کی جڑیں سرحد پار افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے وابستہ ہیں، اس کارروائی نے سرحد پار دہشتگردی اور افغانستان میں موجود مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔
باجوڑ کی کارروائی کو داعش خراسان کے خلاف پاکستان کی مسلسل انسداد دہشتگردی مہم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اپنی کارروائیوں کے ذریعے یہ مؤقف برقرار رکھا ہے کہ ملک میں سرگرم تمام دہشتگرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، خواہ ان کا تعلق کسی بھی تنظیم یا گروہ سے ہو۔
رپورٹس میں اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں افغانستان سے منسلک کارندوں کے سامنے آنے کا سلسلہ خطے کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے اس تناظر میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مربوط حکمت عملی اپنائے، مؤثر انسداد دہشتگردی اقدامات یقینی بنائے اور دہشتگرد پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ گزین کی فروری 2026 کی افغانستان سے متعلق رپورٹ میں اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے 2025 کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے داعش خراسان کے دہشتگردوں کی تعداد تقریباً 2,000 بتائی گئی تھی تنظیم کے جنگجو افغانستان کے شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں منتشر تھے، جبکہ اس کے نیٹ ورکس مختلف علاقوں میں چھوٹے اور غیر مرکزی گروہوں کی شکل میں سرگرم تھے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی اگست 2026 کی رپورٹ میں شام سے افغانستان آنے والے بعض سابق جنگجوؤں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں بعض افراد شام سے افغانستان پہنچے، جن میں سے ایک نے نومبر 2025 میں کنڑ میں داعش خراسان کے کمانڈروں سے ملاقات بھی کی تھی۔ تاہم رپورٹ نے شام سے بڑی تعداد میں جنگجوؤں کی افغانستان منتقلی کی تصدیق نہیں کی۔
اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں افغانستان کی طالبان انتظامیہ پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت جاری رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے طالبان انتظامیہ دہشتگرد گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے، تاہم رکن ممالک نے افغانستان میں متعدد دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں پڑوسی ممالک اور وسطی ایشیائی خطے کے لیے مسلسل خطرہ ہیں، جبکہ طالبان انتظامیہ کی جانب سے داعش خراسان اور دیگر تنظیموں کے خلاف اقدامات کے باوجود دہشتگردی کے مسئلے پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔
مزید پڑھیں





