حکومت اپنے اقدامات سے خود اپنے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے,مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 34 سالہ سیاسی زندگی میں ان کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں بنا، لیکن اب انہیں بدعنوان ظاہر کرنے اور کردار کشی کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت نے طلبہ اور اساتذہ کو اجتماعات منعقد کرنے سے روک دیا ہے حکومت اپنے اقدامات سے خود اپنے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے، جس کے اثرات ملکی نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کردار کشی کے لیے نوٹس اچھالے جارہے ہیں، جب کہ میڈیا کو ان کا اصل مؤقف بھی قوم کے سامنے پیش کرنا چاہیے ان کے خاندان، جماعت کے اہم ذمہ داروں اور کاروباری ساتھیوں پر بھی دباؤ ڈالا جارہا ہے، تاہم وہ ایسے دباؤ کے عادی ہیں اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
جے یو آئی سربراہ نے احتسابی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملک میں احتساب کے نام پر سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں سے انصاف کی توقع نہیں، کیونکہ ان کے بقول یہ احتساب کے ادارے نہیں بل کہ انتقامی ادارے بن چکے ہیں حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے اور سیاست میں آنے کے بعد بڑے سرمایہ کار کیسے بنے؟-
انہوں نے کہا کہ بعض افراد کے خلاف مقدمات چلتے ہیں، انہیں سزائیں ہوتی ہیں اور قید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وفاداری کا اعلان کرتے ہی ان کے مقدمات اور سزائیں ختم ہوجاتی ہیں وہ تحریک چلانے والے لوگ ہیں اور مسلسل آگے بڑھتے رہیں گے۔ تحریک تشدد کا نام نہیں بل کہ تسلسل کا نام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دباؤ ڈال کر ان کی جماعت کا بیانیہ تبدیل نہیں کرایا جاسکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبوں کے وسائل، معدنی ذخائر، سمندری ساحل اور جزائر عوام کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے گوادر، بلوچستان کے ساحلی علاقوں اور سندھ کے جزیروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر عوام کے حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا موجودہ اقدامات کا ایک مقصد صوبوں کے وسائل پر اختیار حاصل کرنا اور دوسرا این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے محصولات کے حصے میں کمی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وسائل کے مستقبل سے متعلق فیصلے قوم کو اعتماد میں لیے بغیر قبول نہیں کیے جائیں گے۔
آئینی ترامیم کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کا آئین، ختم نبوت کی ترمیم اور اٹھارویں ترمیم متفقہ نہیں تھیں؟ ان کا کہنا تھا کہ قوم کے اتفاق کو تباہ کرنے کے بجائے لوگوں کو مطمئن کیا جانا چاہیے وہ کسی سے جھگڑا نہیں کررہے بل کہ اپنے مؤقف کے حق میں دلائل کے ساتھ بات کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران قوم کے سرمائے کو سمیٹنے کی کوشش کریں گے تو وہ اس وطن کو بچانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں





