سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی

مغربی افریقی ملک سینیگال کے ساحل کے قریب غیر قانونی طور پر ہجرت کرنے والے افراد کی کشتی ڈوبنے سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ امدادی ٹیموں نے ایک شخص کو زندہ بچالیا۔
رائٹرز کے مطابق سینیگال کی وزارت داخلہ نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا کہ حادثہ دارالحکومت ڈاکار سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال میں ساحل کے قریب پیش آیا ہفتے کی شام تک امدادی ٹیموں نے سمندر سے 21 افراد کی لاشیں نکال لی تھیں، جبکہ ایک شخص کو زندہ بچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
حکام نے بتایا کہ کشتی میں ایسے افراد سوار تھے جو غیر قانونی طریقے سے دوسرے ممالک جانے کی کوشش کررہے تھے، تاہم کشتی میں سوار افراد کی مجموعی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، حادثے کے بعد سمندر میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ مزید ممکنہ زندہ بچ جانے والے افراد کو تلاش کیا جاسکے۔
واضح رہے کہ مغربی افریقہ سے اسپین کے کینری جزائر پہنچنے کی کوشش میں ہر سال بڑی تعداد میں تارکین وطن خطرناک سمندری سفر اختیار کرتے ہیں، جس کے دوران کشتیوں کےحادثات میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم واکنگ بارڈرز کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران اس سمندری راستے پر 635 افراد ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق بحر اوقیانوس کا یہ خطرناک سمندری راستہ مغربی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے اہم گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





