اتوار، 8 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

طالبان آرمی چیف کا حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی تحریک کو غیر ملکی قرار دینے شدید سیاسی و عسکری ردعمل


طالبان کے آرمی چیف فصیح الدین فطرت کی جانب سے ملک میں جاری مسلح مزاحمت کو غیر ملکی قرار دینے کے بیان پر شدید سیاسی اور عسکری ردعمل سامنے آیا ہے-


طالبان فوج کے سربراہ فصیح الدین فطرت نے حال ہی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک ہزار افراد کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں جاری مزاحمت افغان نہیں ہے,اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق افغان جرنیلوں نے کابل کے رہائشی سابق اعلیٰ فوجی حکام کی مثالیں دے کر اس مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔


مزاحمتی تحریک میں شریک سابق افغان جرنیلوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سمیع سادات اور یاسین ضیا کا تعلق لاہور کے بھاٹی گیٹ سے ہے؟۔ سمیع سادات کا تعلق کابل کے علاقے خیرخانہ سے ہے اور وہ افغان نیشنل آرمی کی 215ویں کور کے سابق کمانڈر جبکہ افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے رہنما ہیں,اسی طرح یاسین ضیا کابل کے ضلع شکردرہ میں پیدا ہوئے اور وہ سابق چیف آف جنرل اسٹاف اور قائم مقام وزیر دفاع رہ چکے ہیں، جو اس وقت افغانستان فریڈم فرنٹ کی قیادت کر رہے ہیں۔


افغان عوام نے کابل کے ان بیٹوں کو غیر ملکی قرار دینے پر طالبان قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے,افغانستان کے سابق فوجی عہدیداروں نے اس امر پر بھی شدید تنقید کی ہے کہ طالبان قیادت جن مزاحمت کار کمانڈرز جیسا کہ اکمل امیر اور حسیب پنجشیری کے مارے جانے کو اپنی بڑی عسکری فتوحات اور ٹرافیاں بنا کر پیش کرتی ہے، انہیں غیر ملکی قرار دینا دراصل اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔


سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کیا یہ کمانڈر کراچی کے لانڈھی یا لیاقت آباد سے تعلق رکھتے تھے؟ انہیں ہلاک کرنے کے بعد پاکستانی قرار دینا فصیح الدین فطرت کی شرمندگی مٹانے کی ناکام کوشش ہے، جو اپنے ہی ملک کے اندر اٹھنے والی مخالفت کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔


سابق افغان عہدیداروں نے فصیح الدین فطرت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ آخر افغانستان کے 29 صوبوں سے تعلق رکھنے والے افغان شہری طالبان حکومت کے خلاف کیوں برسرِ پیکار ہیں۔


مخالفین نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا شخص جو مائیک کے سامنے کھڑے ہو کر جھوٹ بولے، افغان عوام کی قبروں پر بیانات دے اور اپنے عوام کی جائز مخالفت کو بیرونی سازش قرار دے، وہ ایک سچا عسکری کمانڈر کہلانے کا ہرگز مستحق نہیں۔


بیان کے اختتام پر دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا کہ فصیح الدین فطرت کی طرف سے مزاحمت کاروں کو پاکستانی قرار دینے سے نہ تو حقیقت تبدیل ہوگی اور نہ ہی طالبان حکومت کو اس بحران سے نجات ملے گی, آپ انہیں پاکستانی قرار دیتے رہیں، اس سے آپ کو کوئی نجات نہیں ملے گی کیونکہ مزاحمت افغان ہے اور شرمندگی صرف آپ کی ہے۔