آج ہم اللہ سے کچھ مانگنے نہیں آئے، آج ہم اللہ سے باتیں کرنے آئے ہیں۔
فرق ہے دونوں میں۔ مانگنا تو ہم روز مانگتے ہیں۔ یہ دے دے، وہ دے دے، میرا یہ کام کر دے، میری وہ مشکل آسان کر دے۔ لیکن باتیں؟ باتیں تو ہم نے کب سے نہیں کیں۔
اے اللہ، آج میں تجھ سے کچھ نہیں مانگ رہی، آج بس تجھے بتانے آئی ہوں کہ میں تھک گئی ہوں۔ بہت تھک گئی ہوں۔
لوگوں سے بات کر کے دیکھ لیا، کسی نے سنا ہی نہیں۔ کسی نے سنا بھی تو سمجھا نہیں۔ کسی نے سمجھا بھی تو مزاق بنا دیا۔ کسی نے دلاسہ دیا بھی تو اگلے ہی لمحے اپنا دکھ لے کر بیٹھ گیا۔
اے اللہ، میں لوگوں کی بھیڑ میں تنہا ہو گئی ہوں۔ سب کے ساتھ ہوں، لیکن اکیلی ہوں۔ ہنستی ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں خوش ہوں، روتی ہوں تو لوگ کہتے ہیں ڈرامہ ہے۔ کس کو بتاؤں کہ اندر کیا طوفان ہے؟
تو آج سوچا، تجھ سے بات کر لوں۔ کیونکہ تو ہی وہ ہے جو بن کہے بھی سن لیتا ہے، جو روئے بغیر بھی آنسو دیکھ لیتا ہے۔
اے میرے اللہ! تو جانتا ہے نا، میں نے کسی کا برا نہیں چاہا۔ میں نے ہمیشہ سب کے لیے اچھا سوچا۔ پھر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ میں جن کو اپنا سمجھتی ہوں، وہی دل دکھا جاتے ہیں۔ میں جس چیز کو سب سے زیادہ سنبھال کر رکھتی ہوں، وہی چیز ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔
کبھی کبھی دل کرتا ہے چیخ چیخ کر روؤں، اور کبھی دل کرتا ہے بالکل خاموش ہو جاؤں۔ کہ کوئی مجھ سے کچھ نہ پوچھے، بس مجھے تیرے پاس بیٹھنے دے۔
اے اللہ، دنیا کہتی ہے امید رکھو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن میں امید نہیں رکھتی، میں تجھ پر یقین رکھتی ہوں۔ امید تو ٹوٹ جاتی ہے، امید تو لوگوں سے ہوتی ہے، حالات سے ہوتی ہے۔ یقین تیرے اوپر ہوتا ہے، اور یقین کبھی نہیں ٹوٹتا۔
مجھے دنیا سے امید نہیں ہے، مجھے تجھ پر یقین ہے۔ مجھے لوگوں سے توقع نہیں، مجھے تیرے فیصلوں پر بھروسہ ہے۔
تو جو کرے گا، بہتر کرے گا۔ تو اگر دیر کر رہا ہے، تو اس میں بھی کوئی بہتری ہے۔ تو اگر میرے آنسو دیکھ رہا ہے اور پھر بھی خاموش ہے، تو اس خاموشی میں بھی کوئی حکمت ہے۔
اے اللہ، میں نے سنا ہے تو ٹوٹے ہوئے دلوں کے بہت قریب ہوتا ہے۔ تو دیکھ، میرا دل بالکل ٹوٹ چکا ہے، تو اب تو میرے سب سے زیادہ قریب ہے نا؟
میں نے سنا ہے تو رات کے آخری پہر اپنے بندوں کا انتظار کرتا ہے کہ کوئی ہے جو مجھ سے بات کرے؟ تو دیکھ، میں آ گئی ہوں۔ میں وہی گناہگار، وہی خطاکار بندی، جو دن میں دنیا کے کاموں میں تجھے بھول جاتی ہے، لیکن رات کو جب سب سو جاتے ہیں، تو تیری ہی یاد آتی ہے۔
اے اللہ، مجھے معاف کرنا نہیں آتا، مجھے تو بس رونا آتا ہے۔ مجھے بڑے بڑے لفظ نہیں آتے دعا کے لیے، مجھے تو بس اتنا کہنا ہے کہ میں تکلیف میں ہوں اور تو میرے پاس ہے۔
مجھے دنیا کی ہمدردی نہیں چاہیے، مجھے تیری رحمت چاہیے۔ مجھے لوگوں کا سہارا نہیں چاہیے، مجھے تیرا سہارا چاہیے۔
اے اللہ، آج کے بعد میں تجھ سے مانگوں گی نہیں، میں روز تجھ سے باتیں کیا کروں گی۔ اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں، اپنے چھوٹے چھوٹے دکھ، اپنی وہ باتیں جو میں کسی کو نہیں بتا سکتی۔ کیونکہ تو سن کر کبھی طعنہ نہیں دے گا، تو سن کر کبھی راز فاش نہیں کرے گا، تو سن کر کبھی بوجھ نہیں سمجھے گا۔
تو میرا اللہ ہے، تو میرا دوست ہے، تو میرا سب کچھ ہے۔
بس اتنا کہنا تھا کہ اے اللہ، میں ٹھیک نہیں ہوں، لیکن مجھے یقین ہے کہ تو مجھے ٹھیک کر دے گا۔ نہ آج تو کل، نہ کل تو پرسوں، لیکن تو ضرور کرے گا۔ کیونکہ تو نے آج تک مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔
تو بس مجھے تھامے رکھنا، گرنے مت دینا۔
آمین۔






