مکیش امبانی نےبی جے پی کو کتنے فنڈز جاری کیے، ایلون مسک نے اسکرین شارٹس شئیر کر دیئے

ایلون مسک اور مکیش امبانی کے درمیان جاری حالیہ لفظی جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایسی میڈیا رپور ٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے ہیں جن میں ریلائنس انڈسٹریز کے بی جے پی (BJP) کے ساتھ مالی اور تشہیری روابط کا دعویٰ کیا گیا ہے-
ایلون مسک نے اپنے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ’الجزیرہ‘ کی ’2022‘ کی اس رپورٹ کے اسکر ین شاٹس شیئر کیے جس کی سرخی تھی کہ ’کس طرح ایک ریلائنس فنڈڈ فرم فیس بک پر بی جے پی کی مہم کو فروغ دے رہی ہے-
https://x.com/elonmusk/status/2108717598196244828?s=20
انہوں نے ’انڈین ایکسپریس‘ کی ’2024‘ کی ایک آرکائیو شدہ رپورٹ بھی شامل کی جو ’کوک سپلائی‘ نامی کمپنی سے متعلق تھی،مذکورہ رپورٹ کے مطابق ریلائنس سے منسلک اس کمپنی نے الیکٹورل بانڈز کے ذریعے بی جے پی کو ’385‘ کروڑ روپے اور شیو سینا کو ’25‘ کروڑ روپے کے عطیات دیے۔
یہ پورا تنازع بھارت میں ایلون مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹاعٓر لنک کو تجارتی لائسنس ملنے میں ہونے والی تاخیر کے باعث شروع ہوا ایلون مسک کا الزام ہے کہ وہ تمام حکومتی ضوابط پر پورا اتر چکے ہیں لیکن مکیش امبانی کی کمپنی 'ریلائنس جیو' (Reliance Jio) اپنی کاروباری اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کر کے اسٹار لنک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔
اس سے قبل مسک نے طنزیہ طور پر امبانی کو "وزیر اعظم امبانی" اور "بھارت کا اصل باس" بھی قرار دیا تھا،مسک نے ایکس پر لکھا کہ وہ معذرت خواہ ہیں کہ انہیں اب تک معلوم نہیں تھا کہ امبانی ہی حقیقت میں بھارت کے’اصل سربراہ‘ ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ امبانی اپنی منڈی پر اجارہ داری برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
مسک نے مزید لکھا کہ ’ظاہر ہے آپ بھارت کے عظیم عوام کا اجارہ دارانہ استحصال جاری رکھنا پسند کریں گے، لیکن کیا آپ پھر بھی اسٹار لنک کو مقابلے کی اجازت دینے پر غور کریں گے؟‘
بھارتی وزیر مواصلات جیوتیرادتیہ سندھیا اور دیگر حکام نے مسک کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لائسنسنگ کا عمل مکمل طور پر منصفانہ ہے اور کسی کو کوئی ترجیح یا اجارہ دار ی نہیں دی جا رہی-
جبکہ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اس معاملے پر ایلون مسک کی بالواسطہ حمایت کرتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے،دوسری جانب، مکیش امبانی یا ریلائنس گروپ کی طرف سے تاحال ایلون مسک کی ان پوسٹس اور الزامات پر کوئی باضابطہ عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مزید پڑھیں





