Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بیرونِ ملک پاکستانی وکلا کو سپریم کورٹ پاکستان میں وکالت کا لائسنس دلوانے کے لیے اہم پیش رفت

مصنف:

اسلام آباد : انٹرنیشنل لائرز ایسوسی ایشن (ILA) کے ڈائریکٹر بیرسٹر صفدر اقبال اور بیرسٹر غلام مصطفیٰ خواجہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی وکلا کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور ایڈووکیٹ انرولمنٹ کے حصول کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔


پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، بیرسٹر صفدر اقبال، جو انگلینڈ اینڈ ویلز کے سولیسٹر اور پاکستان اوورسیز فورم کے قانونی مشیر بھی ہیں، نے بیرسٹر غلام مصطفیٰ خواجہ کے ہمراہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی اور انٹرنیشنل لائرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک اہم تجویز پیش کی۔


تجویز کا بنیادی مقصد انگلینڈ اینڈ ویلز میں اہل پاکستانی قانونی ماہرین کے حاصل کردہ پیشہ ورانہ تجربے کو پاکستان میں سپریم کورٹ کا وکیل بننے کے لیے مقررہ تجربے کی شرائط کے تحت تسلیم کرنے کے امکان کا جائزہ لینا ہے۔


اس سلسلے میں وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سمیت اہم عدالتی اور حکومتی شخصیات سے رابطے اور مشاورت کی ہے، تاکہ بیرونِ ملک پاکستانی وکلا کے لیے سپریم کورٹ میں وکالت کے لائسنس کے حصول کا مناسب قانونی راستہ تلاش کیا جا سکے۔


مجوزہ اصلاحات کے تحت انگلینڈ اینڈ ویلز میں سولیسٹر کے طور پر رجسٹرڈ پاکستانی قانونی ماہرین کے متعلقہ تجربے کو پاکستان میں ہائی کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے درکار پریکٹس کے مساوی تسلیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ وہ سپریم کورٹ میں بطور ایڈووکیٹ انرولمنٹ کے لیے مقررہ شرائط پوری کرنے کے سلسلے میں اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں۔


پریس ریلیز کے مطابق، چیف جسٹس آف پاکستان نے اس معاملے پر پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین، جناب پیر محمد مسعود چشتی، سے بھی تبادلۂ خیال کیا اور تجویز کو مزید جائزے، غور و خوض اور مناسب فیصلے کے لیے پاکستان بار کونسل کو بھجوا دیا۔


بیرسٹر صفدر اقبال اور بیرسٹر غلام مصطفیٰ خواجہ کی یہ کوشش بیرونِ ملک مقیم پاکستانی قانونی ماہرین کے پیشہ ورانہ تجربے کو تسلیم کرنے اور ان کے لیے پاکستان میں اعلیٰ عدالتی سطح پر وکالت کے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔


تاہم، اس تجویز کی منظوری اور موجودہ قواعد میں کسی ممکنہ تبدیلی کا حتمی فیصلہ متعلقہ مجاز اداروں کی جانب سے کیا جائے گا۔