Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جب لفظ روایت کی دیوار پھلانگتا ہے،تحریر:ایم زیڈ کنول

نقطہ نظر

(این کارسن کا نوبل انعام)

ایم زیڈ کنول۔لاہور

ادب کی تاریخ میں بعض لمحے محض کسی فرد کی کامیابی نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کے ادبی شعور پر ایک سوالیہ نشان بھی ثبت کرتے ہیں۔ کینیڈا کی شاعرہ، مترجمہ، مضمون نگار اور کلاسیکی ادب کی محقق این کارسن کو نوبل انعام ملنا ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ یہ اعزاز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تخلیق کا اصل کمال صرف خوب صورت لفظوں کی ترتیب نہیں، بلکہ مانوس لفظوں میں نامانوس جہان دریافت کرنا ہے۔ کبھی ایک سطر صدیوں کے فاصلے سمیٹ لیتی ہے اور کبھی ایک نئی ادبی ہیئت پرانی روایت کے بند دریچوں کو کھول دیتی ہے۔

این کارسن 1950ء میں ٹورنٹو، کینیڈا میں پیدا ہوئیں۔ ان کی ادبی شناخت کسی ایک صنف کی پابند نہیں۔ وہ شاعری بھی کرتی ہیں، تنقیدی مضامین بھی لکھتی ہیں، تراجم بھی کرتی ہیں اور نثر و نظم کے درمیان ایسی تخلیقی راہیں بھی بناتی ہیں جن پر چلتے ہوئے قاری کو اپنی ادبی درجہ بندیوں پر نظرثانی کرنا پڑتی ہے۔ سویڈش اکیڈمی نے ان کے اس تخلیقی سرمایے کو سراہا ہے جس میں کلاسیکی روایت سے بامعنی مکالمہ کرتے ہوئے معاصر ادب کے لیے نئی صورتیں وضع کی گئی ہیں۔

کارسن کی اہمیت محض اس بات میں نہیں کہ وہ قدیم یونانی ادب سے واقف ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ ماضی کو ماضی کے مقبرے میں بند نہیں کرتیں۔ ان کے ہاں کلاسیکی اساطیر کوئی بے جان نوادرات نہیں، بلکہ انسانی تجربے کے ایسے آئینے ہیں جن میں آج کا انسان بھی اپنے چہرے کی شکست و ریخت دیکھ سکتا ہے۔محبت،محرومی خواہش، شناخت، تنہائی اور سوگ جیسے موضوعات زمانوں کی سرحد سے آزاد ہیں۔ انسانی لباس بدل جاتا ہے، تہذیبوں کے نقشے تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر دل کے بعض زخم اپنی زبان نہیں بدلتے۔

ان کی کتاب Eros the Bittersweet محبت اور خواہش کے فلسفے کو کلاسیکی یونانی ادب کے تناظر میں دیکھتی ہے، جب کہ Autobiography of Red اساطیری کردار کو جدید ادبی تجربے میں ڈھالنے کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ان کی تصنیف Nox ذاتی سوگ، یادداشت اور زبان کے باہمی رشتے کو متن اور بصری عناصر کے امتزاج سے پیش کرتی ہے۔ یہ تخلیقات اس تصور کو وسعت دیتی ہیں کہ ادب کی روح کسی ایک صنف کے سانچے میں مقید نہیں رہتی۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا ادب میں جدت کا مطلب روایت سے انکار ہے؟ یقیناً نہیں۔ روایت اگر محض نقل بن جائے تو تخلیق کا راستہ روک لیتی ہے، لیکن اگر وہ نئے سوالات کی بنیاد بنے تو مستقبل کی تعمیر میں شریک ہو جاتی ہے۔ این کارسن کی ادبی روش ہمیں اسی فرق کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ وہ قدیم متن کے سامنے صرف عقیدت کے چراغ نہیں جلاتیں، اس سے مکالمہ بھی کرتی ہیں۔ ان کے ہاں ماضی ایک بند کتاب نہیں، ایک کھلی کھڑکی ہے جس سے حال کی ہوا بھی گزرتی ہے۔

ادب کی زندہ روایت وہ نہیں جو ہر نئے خیال کو اپنی دہلیز پر روک دے، بلکہ وہ ہے جو نئے خیال کو آزمانے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ تخلیق کار جب مروجہ اصناف کے درمیان دیواریں گراتا ہے تو لازماً ہر تجربہ کامیاب نہیں ہوتا۔ بعض تجربات ناکام بھی ہوتے ہیں۔ لیکن کسی تجربے کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اس کی نوعیت، فنی تشکیل اور ادبی قدر کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس لیے کہ وہ پہلے سے قائم سانچے سے مختلف ہے۔ این کارسن کا اعزاز اس امکان کو نمایاں کرتا ہے کہ صنفی سرحدوں سے آگے بڑھنے والی تخلیق بھی عالمی ادب میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔

اس تناظر میں نوبل انعام کی اہمیت اپنی جگہ، مگر یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کوئی ایک اعزاز ادب کی پوری کائنات کا آخری فیصلہ نہیں ہوتا۔ دنیا میں بے شمار ایسے ادیب اور شاعر گزرے ہیں جنہیں بڑے عالمی اعزازات نہیں ملے، لیکن ان کی تخلیقات نے زبانوں، تہذیبوں اور نسلوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انعام ادبی اعتراف کا ایک معتبر وسیلہ ہے، ادب کی قدر و قیمت کا واحد پیمانہ نہیں۔ کسی تخلیق کی حقیقی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے عہد سے نکل کر آنے والے زمانوں کے سوالوں کا حصہ بن جاتی ہے۔

یہی مقام ہے جہاں ہمیں اپنے ادبی منظرنامے پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔

اردو ادب میں تخلیقی وفور کی کمی نہیں۔ ہماری شاعری نے انسانی جذبات، تہذیبی تصادم، سیاسی جبر، سماجی ناہمواری اور وجودی کرب کو غیر معمولی فنی قوت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ہماری زبان کے پاس میر کا سوز، غالب کی فکری پیچیدگی، فیض کی مزاحمتی جمالیات اور بے شمار معاصر قلم کاروں کی انفرادی آوازیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ہماری ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے، ان کے معیاری تراجم، بین الاقوامی اشاعت اور تنقیدی مطالعے کے لیے کتنی منظم کوششیں کی جاتی ہیں؟

کسی ادیب کی عالمی شناخت صرف اس کی تخلیقی صلاحیت سے نہیں بنتی۔ اس کے ساتھ ترجمے کا معیار، اشاعتی رسائی، علمی مکالمہ، تنقیدی پذیرائی اور ادارہ جاتی توجہ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان عوامل کی موجودگی کسی کمزور تخلیق کو لازماً عظیم نہیں بنا دیتی، لیکن ان کی عدم موجودگی بہت سی اہم تخلیقات کی رسائی محدود کر سکتی ہے۔ چنانچہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو ادب عالمی ادبی مکالمے میں زیادہ مؤثر انداز سے شریک ہو تو ہمیں محض اعزازات کی فہرستوں پر افسوس کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

ادبی اداروں کو چاہیے کہ وہ معیاری اردو ادب کے منتخب نمونوں کے تراجم کے لیے شفاف اور مستقل منصوبے بنائیں، مترجمین کی تربیت اور مالی معاونت کا انتظام کریں، عالمی جامعات اور اشاعتی اداروں کے ساتھ روابط بڑھائیں اور انتخاب کے عمل میں شخصی پسند و ناپسند کے بجائے واضح ادبی معیار اپنائیں۔ ادبی رسائل، جامعات اور تنقیدی حلقوں کو بھی نئی آوازوں کے لیے جگہ پیدا کرنی چاہیے۔ اسی طرح تخلیق کاروں کو اپنے کام کی فنی اصلاح، فکری گہرائی اور عالمی قارئین تک رسائی کے امکانات پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔

این کارسن کے نوبل انعام کو کسی دوسری زبان یا تہذیب کی برتری اور ہماری ادبی روایت کی کمتری کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔ اس سے زیادہ مفید رویہ یہ ہے کہ ہم اس اعزاز کو عالمی ادب کے بدلتے ہوئے ذوق، تخلیقی تجربے کی وسعت اور ادبی اداروں کے کردار پر غور کرنے کا موقع بنائیں۔ دنیا کی ہر زبان اپنی مخصوص تاریخ، علامتوں اور جمالیاتی تجربات کے ساتھ انسانی تہذیب کے مشترکہ خزانے میں حصہ ڈالتی ہے۔ اس خزانے کی قدر کسی ایک زبان کے قد سے نہیں، اس میں جمع ہونے والی تخلیقی دولت سے متعین ہوتی ہے۔

آخرکار ادب کوئی تمغہ نہیں جسے سینے پر سجا کر سفر تمام کر لیا جائے؛ یہ تو ایک ایسا چراغ ہے جس کی روشنی ہر نئی نسل اپنے سوالوں کے مطابق دریافت کرتی ہے۔ این کارسن کے حصے میں آنے والا نوبل انعام ان کے طویل تخلیقی سفر کا عالمی اعتراف ہے، مگر ہمارے لیے اس کی اصل معنویت شاید اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی زبان کے چراغوں کو دنیا کے افق تک پہنچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

چراغ کی قدر اس کے نام سے نہیں، اس روشنی سے ہوتی ہے جو اندھیرے کے حصے میں کمی کر دے۔ اور ادب کی اصل فتح یہی ہے کہ لفظ سرحد پار کرے تو اپنے ساتھ انسان کو بھی لے جائے۔