پنجاب میڈیکل فیکلٹی کا میٹرک پاس طلبہ کے لیے 17 میڈیکل ڈپلومہ کورسز میں داخلوں کا اعلان

پنجاب میڈیکل فیکلٹی نے صوبے بھر کے سرکاری طبی تربیتی اداروں میں 17 مختلف پیرامیڈیکل اور متعلقہ طبی شعبوں کے دو سالہ ڈپلومہ کورسز میں داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔
تعلیمی سیشن 2028-26 کے لیے طبی شعبوں کے ان ڈپلومہ کورسز میں داخلے کے لیے سائنس مضامین کے ساتھ میٹرک پاس کرنے والے طلبہ درخواست دے سکتے ہیں، پنجاب میڈیکل فیکلٹی کے سرکاری داخلہ نوٹس کے مطابق امیدواروں کو داخلے کے لیے آن لائن درخواست جمع کرانا ہوگی، جس کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ فیکلٹی نے نئے تعلیمی سیشن کے لیے داخلے کی اہلیت، میرٹ، در خواست فیس اور درخواست دینے کے طریقہ کار کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔
پنجاب میڈیکل فیکلٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والے 17 کورسز میں مختلف طبی شعبوں سے متعلق تربیت شامل ہے، جن میں ڈسپنسر ٹیکنیشن، میڈیکل لیبارٹری ٹیکنیشن، آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن، ریڈیوگرافی اینڈ امیجنگ ٹیکنیشن اور پبلک ہیلتھ ٹیکنیشن شامل ہیں،دانتوں کے علاج اور دیکھ بھال سے متعلق شعبوں میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے ڈینٹل ٹیکنیشن، ڈینٹل ہائیجینسٹ اور ڈینٹل سرجری اسسٹنٹ کے ڈپلو مہ کورسز بھی دستیاب ہیں۔
اس کے علاوہ ڈائیلاسز ٹیکنیشن، آپتھلمک ٹیکنیشن، فزیوتھراپی ٹیکنیشن، اینستھیزیا ٹیکنیشن اور سینٹرل اسٹرلائزیشن ٹیکنیشن کے کورسز بھی پیش کیے جا رہے ہیں، دیگر دستیاب پروگراموں میں فارمیسی اسسٹنٹ، ڈسپنسنگ آپٹیشنری، کارڈیک ٹیکنیشن اور اینڈوسکوپی ٹیکنیشن شامل ہیں،ا ن تمام ڈپلومہ کورسز کا دورانیہ دو سال مقرر کیا گیا ہے امیدوار اپنی تعلیمی قابلیت اور دستیاب نشستوں کے مطابق آن لائن داخلہ سسٹم کے ذریعے پسندیدہ کورسز اور تربیتی اداروں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
پنجاب میڈیکل فیکلٹی کے مطابق ان کورسز میں داخلے کے لیے امیدوار کا سائنس مضامین کے ساتھ میٹرک پاس ہونا ضروری ہےاس میں فز کس، کیمسٹری اور بائیولوجی کے مضامین شامل ہونا لازمی ہیں، امیدوار کے لیے میٹرک میں کم از کم سیکنڈ ڈویژن حاصل کرنا ضروری ہے، جبکہ فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی تینوں مضامین میں مجموعی طور پر کم از کم 45 فیصد نمبر ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
داخلہ نوٹس میں امیدواروں کے لیے عمر کی کوئی بالائی حد مقرر نہیں کی گئی، جس کا مطلب ہے کہ مقررہ تعلیمی شرائط پوری کرنے والے مختلف عمر کے امیدوار بھی درخواست دے سکتے ہیں، فیکلٹی نے داخلوں میں معذور امیدواروں کے لیے 2 فیصد کوٹہ بھی مختص کیا ہےتاہم اس کوٹے کے تحت داخلہ متعلقہ میڈیکل بورڈ کی جانچ اور منظوری سے مشروط ہوگا۔
مطلوبہ معذوری سرٹیفکیٹ رکھنے والے اہل امیدواروں کو میرٹ میں 20 اضافی نمبر دیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حفظِ قرآن مکمل کر نے والے امیدواروں کے لیے بھی 10 اضافی میرٹ نمبر مقرر کیے گئے ہیں، تاہم ان نمبروں کے حصول کے لیے کسی تسلیم شدہ ادارے کی جانب سے جاری کردہ متعلقہ سرٹیفکیٹ جمع کرانا ضروری ہوگا داخلوں کا حتمی فیصلہ امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، میرٹ، مقررہ اہلیت، د ستیا ب نشستوں اور متعلقہ تعلیمی ادارے کے داخلہ معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
میڈیکل ڈپلومہ کورسز میں داخلے کے لیے درخواست فیس 500 روپے مقرر کی گئی ہے، جو ناقابلِ واپسی ہوگی۔ امیدواروں کو فیس کا چالان پنجاب میڈیکل فیکلٹی کے سرکاری آن لائن داخلہ پورٹل سے تیار کرنا ہوگا اور اس پر درج ہدایات کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
فیکلٹی نے واضح کیا ہے کہ درخواست فیس بینک ڈرافٹ یا پے آرڈر کے ذریعے قبول نہیں کی جائے گی۔ درخواست جمع کراتے وقت امیدوا ر وں کو میٹرک کی سند یا رزلٹ کارڈ، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، قومی شناختی کارڈ یا ب فارم اور حالیہ پاسپورٹ سائز تصویر فراہم کرنا ہوگی، اسی طرح معذوری کے کوٹے یا اضافی میرٹ نمبروں کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کو اپنی متعلقہ دستاویزات اور سرٹیفکیٹس بھی جمع کرانے ہوں گے۔
پنجاب میڈیکل فیکلٹی کی داخلہ پالیسی کے مطابق امیدوار آن لائن درخواست دیتے وقت کورسز اور تعلیمی اداروں کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ ترجیحات منتخب کر سکتے ہیں۔ اس سہولت کے ذریعے امیدوار اپنی پسند کے مطابق مختلف کورسز اور اداروں کا انتخاب کر سکیں گے، تاہم داخلہ پالیسی میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ اگر کسی امیدوار کو اس کی منتخب کردہ ترجیحات میں سے کسی ایک کے تحت داخلہ مل جاتا ہے تو اس کی باقی تمام ترجیحات غیر فعال ہو جائیں گی۔
پنجاب میں ان 17 میڈیکل ڈپلومہ کورسز میں داخلے کے خواہش مند امیدواروں کو 20 نومبر 2026 تک اپنی درخواستیں آن لائن جمع کرانا ہوں گی۔ درخواست دینے کے لیے پنجاب میڈیکل فیکلٹی کا سرکاری ایڈمیشن سسٹم استعمال کرنا ہوگا،امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ در خواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تعلیمی اسناد، ڈومیسائل، شناختی دستاویزات اور دیگر مطلوبہ سرٹیفکیٹس تیار رکھیں تاکہ داخلے کا عمل مقررہ وقت میں مکمل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں



